الزامات کی تردید کے بعد بشیر میمن کو دھمکیاں
سید مجاہد علی
یہ بات کسی وزیر اعظم کے شایان شان نہیں ہے کہ میڈیا میں کسی سابقہ سرکاری افسر کے الزامات کی تردید ضروری سمجھے۔ ایف آئی اے کے سابق ڈی جی بشیر میمن کے انٹرویو میں عائد کئے گئے الزامات کی کسی مناسب فورم سے تحقیقات ہی شاید سچائی کو سامنے لاسکتی ہیں۔ الزام کے بعد اس کی تردید سے ایک ہی معاملہ پر دو مؤقف سامنے آتے ہیں۔ یعنی ان میں سے ایک فرد دروغ گوئی سے کام لے رہا ہے۔ نہ جانے عمران خان کو میڈیا پر بشیر میمن کے بارے میں گفتگو کرنے کا مشورہ کس نابغہ نے دیا تھا۔بشیر میمن نے دو روز پہلے ایک انٹرویو میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر اور وزیر قانون فروغ نسیم نے منی لانڈرنگ کے الزامات میں جسٹس قاضی کے خلاف تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا تھا جو انہوں نے مسترد کردیا تھا کیوں کہ ایف آئی اے کے پاس کسی جج کے خلاف تحقیقات کی اتھارٹی نہیں ہے۔ فروغ نسیم اور شہزاد اکبر ان الزامات کی تردید کرچکے ہیں۔ شہزاد اکبر نے تو بشیر میمن کو قانونی نوٹس بھی بھجوایا ہے۔ ہتک عزت کے قانون کے تحت بھیجے گئے قانونی نوٹس کی پاکستان میں کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی ۔ نہ ہی ایسے سول دعوے کسی حتمی نتیجے تک پہنچتے ہیں۔ اس لئے اگر کوئی قانونی نوٹس بھیجا بھی گیا ہے تو وہ میڈیا پبلسٹی کے نقطہ نظر سے ہی روانہ کیا گیا ہوگا۔

بشیر میمن نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اپنی ملازمت کے دوران پیش آنے والے واقعات کے بارے معلومات عام کی ہیں۔ اس کے بعد وزیر اعظم سے لے کر ان کے وزیر و مشیر مستعدی سے تردیدی بیانات جاری کررہے ہیں۔ یوں یہ معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔ اب سیاسی امور پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے بشیر میمن پر ٹیکس میں خورد برد کرنے، قبائیلی علاقوں میں غیر قانونی طریقے سے فیکٹریاں لگانے اور تیل درآمد کرنے کے الزامات عائد کئے ہیں۔ ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ان معاملات کی تحقیقات ہوجائیں تو واضح ہوجائے گا کہ بشیر میمن اب کیوں جھوٹے الزامات عائد کررہے ہیں۔ ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا ہے کہ ’نوکری سے ریٹائرمنٹ کے بعد بشیر میمن بعض معاملات کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ وزیر اعظم دوسرے ٹیکس چوروں کو پکڑنے کے بعد ان کی چوری بھی پکڑ لیں گے۔ اور انہیں بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ اور ان کے کالے کرتوت سب کے سامنے آجائیں گے‘۔

سنگین الزامات کی تردید کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کا یہ درشت اور غیر ذمہ دارانہ لب و لہجہ حکومت کی بدحواسی اور سچائی کو چھپانے کی کوشش ہے۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ حکومت ملکی بیوروکریسی کے اعلیٰ ترین عہدے سے ریٹائر ہونے والے ایک شخص کے خلاف قانونی طریقہ اختیار کرنے کی بجائے، سیاسی بیان بازی اور الزام تراشی کے ہتھکنڈے اختیار کرنا ضروری سمجھتی ہے۔ اس طریقہ سے بشیر میمن کی بجائے حکومت کو زیادہ نقصان ہوگا۔ اس سے عام طور پر یہی تاثر عام ہو گا کہ حکومت جوابی الزام تراشی سے ’فیس سیونگ‘ کی کوشش کررہی ہے تاکہ سابقہ افسر مزید انکشافات سے گریز کریں۔ شہباز گل نے جس طریقے سے پریس کانفرنس میں الزامات عائد کئے ہیں ان میں یہ پیغام بھی پنہاں ہے کہ حکومت کے بارے میں منفی معلومات عام کرنے والے کسی شخص کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ یہ پیغام صرف بشیر میمن ہی کے لئے نہیں ہے بلکہ تمام ریٹائر ہونے والے افسروں کے لئے ہے۔ کیوں کہ سرکاری افسروں ہی کے پاس سیاسی لیڈروں کے ’سیاہ کرتوتوں‘ کے اصل راز ہوتے ہیں۔ ان کی خاموشی بہت سے جرائم کی پردہ پوشی کا سبب بنتی رہی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بظاہر بشیر میمن کے الزامات کو مسترد کیا ہے لیکن بین السطور وہ ان حقائق کی تصدیق کرنے کا سبب بنے ہیں جو بشیر میمن نے تفصیل سے بیان کئے ہیں۔ مثال کے طور پر عمران خان نے سوال کیا کہ جب مجھے پتہ تھا کہ وہ (بشیر میمن) ریفرنس دائر نہیں کرسکتا تو میں ان سے ایسا کرنے کے لئے کیوں کہوں گا؟ یہ سوال بجائے خود وضاحت کررہا ہے کہ وزیر اعظم کسی وقوعہ کی پردہ داری کی باالواسطہ کوشش کررہے ہیں۔ کیوں کہ یہ بات تو اب ملک کے بچے بچے کو پتہ ہے کہ کسی جج کے خلاف ریفرنس تو وزیر اعظم بھی دائر نہیں کرسکتا بلکہ وزیر اعظم کی ہدایت پر صدر مملکت سپریم جوڈیشل کونسل کو کسی جج کے خلاف ریفرنس بھجواتا ہے۔ نہ ہی بشیر میمن نے کہا ہے کہ ان سے ریفرنس دائر کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ ان کا الزم ہے کہ وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر اور وزیر قانون فروغ نسیم ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کروانا چاہتے تھے لیکن وہ خود کو قانونی طور سے اس سے معذور سمجھتے تھے۔ اسی حوالے سے انہیں وزیر اعظم سے بھی ملوایا گیا تھا لیکن وہ اپنی بات پر قائم رہے۔ بشیر میمن نے اپنے انٹرویو میں وزیر اعظم پر براہ راست ملوث ہونے کا الزام نہیں لگایا لیکن عمران خان جس طرح چھلانگ لگا کر اس معاملہ میں فریق بنے ہیں، اس سے یہ معاملہ مزید سنگین ہوگیا ہے۔ اسی لئے اس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات بے حد ضروری ہیں۔

عمران خان نے تردید کرتے ہوئے جوش بیان میں بشیر میمن کے اس الزام کی بھی’ تائد‘ کی ہے کہ حکومت چاہتی تھی کہ مسلم لیگ کے لیڈر خواجہ محمد آصف کے خلاف ایک بیرون ملک کا ورک پرمٹ رکھنے کے الزام میں غداری کا الزام عائد کرکے کارروائی کی جائے۔ لیکن ان کے خیال میں کسی دوسرے ملک کے ورک پرمٹ کی بنیاد پر کسی شخص کے خلاف غداری کا الزام عائد نہیں ہوسکتا۔ وزیر اعظم نے بشیر میمن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’انہیں اس لئے عہدے سے ہٹایا گیا تھا کیوں کہ انہوں نے خواجہ آصف کے خلاف تحقیقات کرنے سے گریز کیا حالانکہ ان کے پاس ملک کا وزیر خارجہ و وزیر دفاع ہوتے ہوئے بھی دوسرے ملک کا ورک پرمٹ تھا‘۔ ریکارڈ کے مطابق ریٹائرمنٹ سے چند ہفتے قبل بشیر میمن کو ایف آئی کے ڈائیریکٹر جنرل کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا جس پر انہوں نے استعفی دے کر ریٹائیرمنٹ لے لی تھی۔ حکومت نے ناراضی کا اظہار کرنے کے لئے ان کی پنشن اور واجبات روک لئے جو بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم سے بحال ہوئی۔

اس تردیدی بیان میں وزیر اعظم نے در حقیقت بشیر میمن کے بیان کردہ واقعات کی تائد کی ہے۔ انہوں نے اقرار کیا ہے کہ حکومت ایک اپوزیشن لیڈر کے خلاف سرکاری ہدایات کے مطابق کارروائی نہ کرنے پر اس قدر نالاں تھی کہ انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ عمران خا ن کے اس بیان سے بشیر میمن کے مؤقف کی تو تصدیق ہوگئی لیکن یہ سوال ضرور سامنے آیا ہے کہ وزیر اعظم اداروں کی جس خود مختاری کی بات کرتے ہیں، وہ کس چڑیا کا نام ہے۔ اگر ایف آئی اے کے سربراہ کو وزیر اعظم اور حکومت کو خوش نہ کرنے پر برطرفی جیسی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو سرکاری اداروں کے کام میں مداخلت اور کسے کہتے ہیں۔ وزیر اعظم یا حکومت کے دیگر زعما کا ایف آئی اے کی عملی کارکردگی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے۔ نہ ہی حکومت کو سیاسی لیڈروں کے خلاف مقدمات قائم کروانے میں اپنے زیر اختیار اداروں اور افسروں پر دباؤ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔ تحقیقات میں اگر بشیر میمن کے بیان اور اس پر وزیر اعظم کی وضاحت کو ہی بنیاد بنا لیا گیا تو حکوت کے لئے اپنی پوزیشن واضح کرنا مشکل ہوجائے گا۔

بشیر میمن نے جو سنگین الزامات عائد کئے ہیں ان میں جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا مطالبہ، مریم نواز کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ، شہباز شریف کے خلاف کرپشن کی تحقیقات اور خواجہ آصف کے خلاف غداری کے الزام میں کارروائی کا مطالبہ شامل تھا۔ واضح ہونا چاہئے کہ بشیر میمن نے صرف ان معاملات کی تصدیق کی ہے کیوں کہ وہ ایف آئی اے کے سربراہ کے طور پر ان سب امور میں حصہ دار رہے ہیں۔ ورنہ وزیر اعظم اور ان کے رفقا اپنی اس نیت کا اظہار تو تقریروں اور بیانات میں اکثر کرتے رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر الزامات تو ان بیانات کا جائزہ لینے سے ہی ثابت ہوجائیں گے۔اس اسکینڈل کا یہ پہلو اپنی جگہ قابل افسوس ہے کہ ایک سابقہ افسر انصاف اور شفافیت کے نام پر اقتدار سنبھالنے والی حکومت کے بارے میں یہ الزام عائد کررہا ہے کہ وہ غیر قانونی طور سے اپنے مخالفین کو تنگ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ڈاکٹر شہباز گل نے آج اپنی پریس کانفرنس میں جس طرح بشیر میمن پر جوابی الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں سنگین نتائج کی بالواسطہ دھمکی دی ہے، اس سے حکومتی قانون پسندی اور شفافیت کا بھانڈا پھوٹ چکا ہے۔

سیاسی مخالفین کے خلاف حکمران جماعت کے عناد کو اگر بھلا بھی دیا جائے تو بھی سپریم کورٹ کے ایک جج کے خلاف تمام غیر قانونی طریقے اختیار کرتے ہوئے صدارتی ریفرنس تیار کروانا بجائے خود حکومت کے دامن پر بدنما داغ ہے۔ بشیر میمن نے تو ان سچائیوں کی تصدیق کی ہے جو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران سامنے آچکی ہیں۔ سپریم کورٹ نہ صرف اس ریفرنس کو کالعدم قرار دے چکی ہے بلکہ اس نے ایف بی آر اور ٹیکس حکام کی کارروائی کو بھی روک دیا ہے کیوں کہ یہ واضح ہوگیا تھا کہ حکومت ان اداروں کو ایک ناپسندیدہ جج کے خلاف استعمال کررہی تھی۔

حکومت کو اس معاملہ میں دھمکیوں اور پروپیگنڈا کے ناجائز ہتھکنڈے اختیار کرنے کی بجائے، کم از کم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے۔ ان کے خلاف ریفرنس ایک غیر معمولی طریقے سے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوایا گیا تھا۔ اور کسی قسم کا عدالتی فیصلہ سامنے آنے سے پہلے ہی عمران خان کے وزیر و مشیر جسٹس عیسیٰ کے خلاف سنگین الزام تراشی کی مہم چلاتے رہے تھے۔ اسی بنیاد پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نظر ثانی کی اپیل میں عدالتی کارروائی کو براہ راست ٹیلی کاسٹ کرنے کی درخواست دی تھی تاکہ تصویر کے دونوں پہلو سامنے آسکیں۔جو حکومت ایک خود مختار جج کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی، اس کے نمائیندوں کے منہ سے انصاف اور شفافیت کی باتیں زیب نہیں دیتیں۔ عمران خان کو جاننا چاہئے کہ وہ ہمیشہ برسر اقتدار نہیں رہیں گے لیکن بطور وزیر اعظم ان کے کارنامے تادیر یاد رکھے جائیں گے اور سایے کی طرح ساری زندگی ان کا پیچھا کریں گے۔

بشکریہ ( کاروان)
واپس کریں