مظفر آباد میں ٹیکنیکل سٹاف کا احتجاجی دھرنا
ظفروانی
آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفر آباد میں دس روز سے زائد عرصہ سے خصوصی طور پر پی ڈبلیو ڈی اور دیگر محکمہ جات کے فنی ملازمین کا اپنے مطالبات کے لئیے احتجاجی دھرنا مسلسل جاری ہے، لیکن افسوسناک طور پر حکومتی یا وزارتی حلقوں نے اس احتجاج کا کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔ یہ ملازمین جن میں سب انجینئیرز ، ڈرافٹسمین ، اور بی ٹیک انجینئیرز شامل ہیں ، چند ایسے جائز مطالبات کی منظوری کے لئیے شدید سرد موسم میں احتجاج پر مجبور ہوے ہیں ، جن سے کوئی ذی شعور انسان انکار نہیں کر سکتا ، لیکن افسوسناک طور پر کسی بھی بااختیار حلقے کی طرف سے اس احتجاج کا کوئی نوٹس نہیں لیا جا رہا ۔ شاید اس روئیے کی وجہ یہ ہے کہ ان حضرات کے گھروں میں پانی اور بجلی کی سپلائی بغیر کسی تعطل کے جاری ہے ، ان کے گھروں اور دفاتر کا سیوریج سسٹم کام کر رہا ہے ، ان کو برف اور لینڈ سلائڈز سے مسدود شدہ راستے اور شاہرات کھلی مل رہی ہیں ، تو اس صورتحال میں ان اربابِ اختیار کی نظر میں یہ دھرنا اور احتجاج کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔

اب ذرا ان مطالبات کا جائزہ لے لیا جائے جن کی منظوری کے لئیے یہ احتجاج کیا جا رہا ہے۔ ان مطالبات میں سے پہلا مطالبہ سب انجینئیز کی پوسٹ کی اپ گریڈیشن کا ہے۔ پاکستان کے دوسرے صوبوں میں سب انجینئیز کی پوسٹ کو اپ گریڈ کر کے گریڈ 14 میں کر دیا گیا ہے ، جبکہ آزاد کشمیر میں تین سالہ ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئیر کے بعد گریڈ گیارہ میں بھرتی کیا جاتا ہے اور یہ بدقسمت لوگ اپنی سروس کے اختتام تک اسی گریڈ میں رہتے ہیں۔ قبل ازیں محکمہ جات میں ایک طریقہ کار تھا جو کسی حد تک ان مسائل کا ازالہ کر دیتا تھا کہ نوکری کے دس سال پورے ہونے کے بعد سب انجینئیز اور ڈرافسٹسمینز کو گریڈ سولہ دے دیا جاتا اور پھر آگے منظور شدہ کوٹہ کے مطابق ان میں سے اہل اور سینئیر ملازمین کو بطور نائب مہتمم گریڈ سترہ میں ترقیاب کیا جاتا تھا۔ ترقی کا یہ طریقہ کار انگریزی دور یعنی قیام پاکستان سے پہلے سے جاری تھا۔ اس طریقہ ترقی میں ایک بات ضروری تھی کہ گریڈ سترہ میں ترقی کے لئیے اہلیت ، سنیارٹی کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری تھا کہ ملازم گریڈ سولہ میں ہو تب ہی اسے کوٹہ کے مطابق گریڈ سترہ میں ترقیاب کیا جا سکتا ہے۔

لیکن اب غیر اعلان شدہ طریقہ کے مطابق گریڈ گیارہ سے سنیارٹی کی بنیاد پر گریڈ سولہ میں ترقیابیاں نہیں کی جا رہیں حالانکہ اس بارے میں کوئی واضع تحریری حکم یا نوٹیفکیشن موجود نہیں ہے ۔ لحاظہ جب کوئی گریڈ گیارہ سے سولہ میں نہیں ترقیاب ہو گا تو سنیارٹی کی بنیاد پر گریڈ سترہ میں ترقیابی جس کا باقائدہ منظور شدہ کوٹہ موجود ہے کیسے ممکن ہو سکے گی ؟ پہلے گریڈ سترہ میں ترقیابی کے لئیے کوٹہ تینتیس (33) فی صد مقرر تھا لیکن بعد میں بی ٹیک آنرز کی شکل میں اپنی تعلیمی قابلیت کو بہتر کرنے والوں کے پیش نظر گریڈ سترہ میں ترقی کے لئیے طے شدہ کوٹہ کے دو حصے کر دئیے گئے۔ بیس فی صد ڈپلومہ انجینئیرز کے لئیے اور پندرہ فی صد بی ٹیک آنرز کی شکل میں اپنی تعلیمی قابلیت کو بہتر کرنے والوں کے لئیے ۔ لیکن ہمارے نظام کو لاحق دیرینہ اقربا پروری کے طریقہ کار کے پیش نظر بی ٹیک آنرز کی سنیارٹی لسٹ سفارش اور زاتی پسند ناپسند کے مطابق بنائی گئی اور سینئیرز کی اکثریت کو بغیر کسی جواز کے اس سے باہر رکھا گیا۔ جن بی ٹیک آنرز انجینئیز کی حق تلفی کی گئی وہ "تحت ضابطہ " سروس ٹریبیونل " میں گئے جہاں بعد از سماعت اس کے موقف کو قانونی طور پر درست پاتے ہوے سینئیرز کے حق میں فیصلہ دیا گیا ، لیکن قانون اور طریقہ کار کی اس صریح اور شدید خلاف ورزی میں کیونکہ محکمہ کے ہی چند سابقہ اعلی حکام شامل تھے تو جونئیر بی ٹیک آنزز کے حامل ایسے ملازمین جن کے ذاتی پسند اور غیر قانونی تخصیص کی بناپر سنیارٹی لسٹ میں شامل کئیے گئے تھے ان سے سروس ٹریبیونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کروا دی گئی۔جس میں محکمہ خود بھی سینئیر ملازمین جن کی حق تلفی ہوئی تھی۔ ان کے خلاف بوجوہ ، فریق بن گیا ۔

گویا اس طرح محکمہ نے بالواسطہ طور پر یہ تسلیم کر لیا کہ تمام تر قانونی اور حکومتی اختیارات کے باوجود محکمہ ایسے ملازمین جن کی حق تلفی کی گئی ، کو انصاف فراہم کرنے کے قابل نہیں ہے۔ انصاف کا تقاضہ یہ تھا کہ بی ٹیک آنرز ک سنیارٹی کے لئیے بحیثیت ڈپلومہ انجینئیر سروس کی سنیارٹی کے لحاظ سے نمبر مقرر کئیے جاتے اور ان کے ساتھ بی ٹیک آنرز پاس کرنے کے سال یعنی سن کے نمبر جمع کر کے حتمی سنیارٹی مقرر اور جاری کی جاتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور جاری کردہ بی ٹیک آنرز کی سنیارٹی لسٹ میں ایسے جونئیر ملامین جن کی سروس بحیثیت ڈپلومہ انجینئیرز بہت کم تھی ، کو سینئیر ترین ملازمین پر ترجیع دی گئی اور اسی بے قاعدگی پر پردہ ڈالنے کے لئیے اکثر سینئیر بی ٹیک آنرز انجینئیرز کو سنیارٹی لسٹ میں شامل ہی نہیں کیا گیا ۔

اس احتجاج میں شامل بی ٹیک آنرز ڈگری کے حامل سینئیر انجینئیرز کا مطالبہ ہے کہ محکمہ کو اپنے قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوے ماضی میں کی جانے والی اس بے ضابطگی اور سینئیر ملازمین کے ساتھ روا رکھی گئی زیادتی کو درست کرنا چاہئیے۔ محکمہ میں یہ سینئیر بی ٹیک آنرز ڈگری کے حامل ، سینئیر ترین ڈپلومہ ایسوسی ایٹ انجینئیر کے حامل افسران محکمہ کا قیمتی اثاثہ ہیں جنہوں نے ہمیشہ بہت کم سہولیات کے ساتھ نامساعد ترین حالات میں دور دراز اور مشکل ترین علاقوں میں احسن طریقے سے اپنی ڈیوٹی سرانجام دی ہے اور ان ہی کی محنت اور کارکردگی محکمہ کی تعریف کا باعث بنتی ہے ۔ اسی طرح ٹیکنیکل الاونس کو صرف ڈگری انجینئیرز تک محدود رکھا گیا ہے جبکہ ہر فنی تعلیم کا حامل ملازم جو فنی خدمات اور سروسز سے منسلک ہے، اس الاونس کا حقدار ہے ۔

حکومت نے حال ہی میں محکمہ مال کے ملازمین کے لئیے ایک اسپیشل الاونس منظور کیا ہے جو بلا تخصیص ان سب کو درجہ بدرجہ ملتا ہے ،محکمہ مال میں بہت سے اعلی افسران براہ راست کے علاوہ سنیارٹی کے لحاظ سے ترقیاب ہوتے ہوے اسسٹنٹ کمشنر یا ڈپٹی کمشنر تک کے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں جبکہ ان کی بنیادی تعلیم وہی رہتی ہے جو ابتدائی تعیناتیوں کے وقت تھی جب ان ملازمین میں براہ راست اور ترقیاب ہو کر تعینات ونے والوں میں الاونس کے سلسلے میں کوئی تخصیص نہیں تو ٹیکنیکل یعنی فنی ملازمین جو ڈپلومہ یا بی ٹیک اور اپنی سنیارٹی کی بنیاد پر ترقیاب ہوتے ہیں ان کو ٹیکنیکل الاونس سے محروم رکھا جانا قرینِ انصاف نہیں ہے ۔ لہذاا حکومت سے درخواست ہے کہ فنی ملازمین کے اس طویل پرامن احتجاج کا نوٹس لیتے ہوے ان کے جائز اور مبنی بر انصاف مطالبات کو ، حل کیا جائے ، تاکہ حکومتی نظام کا یہ انتہائی اہم حصہ، یعنی فنی ملازمین مایوسی اور ظالمانہ طور پر نظر انداز کئیے جانے کے احساس کا شکار نہ ہوں ۔ ان کو حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے نہ کے بری طرح نظرانداز کئیے جانے کی ۔
واپس کریں