پاکستان کی بھارتی فوج کے ہاتھوں4 نوجوانوں کے قتل کی شدید مذمت،کشمیریوں کی تحریک مزاحمت مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ
No image اسلام آباد۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں 4 نوجوانوں کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مقبوض کشمیر میں بدترین ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان قابض بھارتی افواج کے ہاتھوں جعلی مقابلوں میں نہتے کشمیریوں کی ماورئے عدالت قتل عام اور خودساختہ گھیرا اور تلاشی سمیت دیگر کارروائیوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ایک سال کے دوران خواتین اور بچوں سمیت 300 سے زائد کشمیری بھارت کی قابض افواج کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔زاہد حفیظ چودھری نے کہا کہ بھارتی فورسز کے غیر قانونی و غیر انسانی کریک ڈان کے دوران مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ روز کلگام اور پلواما میں مزید 4 نوجوان کشمیریوں کو شہید کیا گیا اور 14 سالہ بچہ شدید زخمی ہوا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کشمیری قیادت و نوجوانوں کی قید وبند، پیلٹ گنز کا استعمال، اجتماعی سزا کے طور پر گھروں کی تباہی اور دیگر تشدد کے طریقے نہ ماضی میں کامیاب ہوئے اور آئندہ بھی نہیں ہوں گے۔ بھارت کو سمجھ لینا چاہیے کہ کشمیر کے عوام کے خلاف طاقت کا بہیمانہ استعمال، ماورائے عدالت قتل عام، حراستی تشدد و ہلاکتیں اور جبری گمشدگیاں ماضی میں بھی ناکام رہی ہیں۔
ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے باعث کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کے لیے ان کی اپنی تحریک مزاحمت مزید مضبوط ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری، اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا پر زور دیتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ابتر ہوتے حالات کا ادراک کرتے ہوئے بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا ذمہ دار ٹھہرائیں۔ پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل تلاش کرے تاکہ خطے میں دیرپا امن و استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

واپس کریں