آزاد کشمیر اسمبلی کا بنیاد ی مقصد تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنا اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے قانون سازی کرنا ہے، سینئر وزیر طارق فاروق چودھری
No image مظفرآباد۔آزادجموں وکشمیر کے سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق نے کہا ہے کہ قانون ساز اسمبلی کا بنیادی مقصد تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنا اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے قانون سازی کرنا ہے ۔ عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ ہماری حکومت نے اسمبلی کے قواعد انضباط کار پر عملدرآمد کیلئے ہمیشہ کام کیا ۔ اسمبلی کی جانب سے بھیجے جانے والے بلات پر متعلقہ محکمہ جات کا جواب نہ آنا باعث تشویش ہے اس پر محکمہ جات کی جواب دہی کی جانی چاہیے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں ممبر اسمبلی نسیمہ خاتون کی جانب سے پیش کیے جانے والے بلات پر متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے جواب نہ آنے پر ان کی جانب سے ایوان کی توجہ مبذول کروانے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ممبر اسمبلی نسیمہ خاتون نے کہاکہ میں نے کافی عرصہ سے پرائیویٹ ممبر کی حیثیت سے 4بلات جو کہ عوامی فلاح وبہبود سے متعلقہ تھے پیش کیے لیکن تاحال متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوئے ۔ سینئر وزیر طارق فاروق چودھری نے کہاکہ پرائیویٹ ممبران کی جانب سے 11بلات پیش کیے گئے جس پر مجھے خوشی ہوئی کہ پرائیویٹ ممبرز قانون سازی کے عمل میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ جات کی جانب سے جواب نہ آنا باعث تشویش ہے ۔ اسمبلی سپریم ادارہ ہے اور ہر ادارہ اسے جوابدہ ہے ۔ جن محکمہ جات نے غفلت برتی ان کی جواب دہی ہونی چاہیے ۔
اس موقع پر وزیر قانون و پارلیمانی امور سردار فاروق احمد طاہر نے کہاکہ اس وقت محکمہ قانون کو پرائیویٹ ممبران کی جانب سے 11مسودات قانون موصول ہوئے ہیں جن میں سے 4مسودات قانون فاضل ممبر کی جانب سے موصول ہوئے ۔ ایک مسودہ قانون پر اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے جواب موصول ہو چکا ہے جبکہ باقیوں پر متعلقہ محکمہ جات نے جواب ابھی تک نہیں بھیجے ۔ اس پر سپیکر نے رولنگ دی کہ جن محکمہ جات کی جانب سے ابھی تک موصول نہیں ہوئے وہ15ایام کے اندر اپنے جواب جمع کروائیں۔ جن محکمہ جات نے اس سلسلہ میں تساہل کا مظاہرہ کیا ان سے جواب بھی طلب کیا جائے تاکہ وہ آئندہ محتاط رہیں۔
آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس جمعرات کے روز ممبر اسمبلی عبدالرشید ترابی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں مسودات قانون آزادجموں وکشمیر بہبود فنڈ و گروپ انشورنس ترمیمی ایکٹ 2020،آزادجموں وکشمیر بورڈ آف ریونیو ترمیمی ایکٹ2020،آزادجموں وکشمیرDistressed Personsترمیمی ایکٹ2020اور آزادجموں وکشمیر کریمینل لاپانچویں ترمیم ایکٹ2020اتفاق رائے سے منظور کر لیے گئے ۔ کریمینل لاکے حوالے سے بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر قانون و پارلیمانی امور سردار فاروق احمد طاہر نے کہاکہ زمین پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کیلئے یہ قانون لایا گیا ہے تاکہ زمینوں پر قبضہ کے مقدمات کو جلد یکسو کیا جا سکے ۔ قبل ازیں زمینوں پر قبضہ کے مقدمات سالہا سال چلتے تھے اور کئی نسلوں بعد فیصلہ جات ہوتے تھے ۔ اب زمینوں پر ناجائز قبضہ کے خلاف سیشن کورٹ میں مقدمہ دائر ہوگا جو کہ 60ایام کے اندر فیصلہ کریگاجبکہ اس کے خلاف ہائیکورٹ میں صرف ایک اپیل کا حق دیا گیا ہے وہ بھی30دن کے اندر یکسو ہوگی ۔ قانون پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر زراعت چوہدری مسعود خالد ، وزیر ٹیوٹا و آئی ٹی ڈاکٹر مصطفی بشیر ، وزیر جیل خانہ جات چوہدری محمد اسحاق ، ممبران اسمبلی نسیمہ خاتون اور سردار صغیر خان نے کہاکہ یہ قانون کمزور اور غریب آدمی کیلئے ہے ۔ اس قانون کو بنانے پر پورے ایوان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس قانون پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں ۔ میڈیا کے ذریعے اس قانون کی آگاہی عام کو فراہم کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ اس قانون کو منظور کروانے میں قائد ایوان نے خصوصی دلچسپی لی۔ آزادجمون وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر کے مالی حسابات مد بندی باسال 2018-19و فنانشل سٹیٹمنٹ باسال2018-19، سپیشل آڈٹ رپورٹ آڈیٹر جنرل آزاد جموں وکشمیر بر حسابات پاور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن مظفرآباد برائے عرصہ جولائی2009تا جون2017، سپیشل آڈٹ رپورٹ آڈیٹر جنرل آزادجموں وکشمیر بر حسابات ترقیاتی سکیم محکمہ لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی برائے مالی سال 2016-17، رپورٹ لوکل فنڈز آڈٹ بر حسابات ترقیاتی، بلدیاتی و دیگر ادارہ جات باسال2017-18ایوان میں پیش کر دی گئیں۔

آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں وزیر بحالیات راجہ محمد صدیق خان اور ممبر اسمبلی نسیمہ خاتون کی فرانس کے میگزین میں گستاخانہ خاکوں کی مذمت ، تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے خون کی فراہمی ، خون کی سکریننگ کزن میرج ایکٹ پاس کرنے کے حوالہ سے پیش کی گئی قراردادیں اتفاق رائے سے منظور کر لی گئیں ۔ وزیر بحالیات راجہ محمد صدیق خان کی قرارداد میں کہا گیا کہ فرانس کے ایک میگزین نے نبی اکرم ر ۖ کے خاکے نشر کیے ہیں ۔ یہ اجلاس ان توہین آمیز خاکوں کی مذمت کرتا ہے ۔ سروس کائنات حضرت محمد ۖ پر ہماری جانیں قربان ، ان کی حرمت ، رسالت کیلئے ہم کوئی بھی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں ۔ اس ایوان کی رائے میں آزادی اظہار رائے کے نام پر عالم اسلام کی دل آزاری کی جارہی ہے اور خاکے شائع کرنے کیلئے میگزین کو فرانس حکومت کی تائید و حمایت بھی حاصل ہے ۔ یہ ایوان فرانس کے صدر میکرون کے اس بیان کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو عصر حاضر میں پوری دنیا میں بحران کا شکار ہے کی شدید مذمت کرتا ہے اور فرانس کے صدر کے اس بیان سے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا یہ مقدس ایوان ان خاکوں کی مذمت کرتا ہے اور عالمی برادری ، خاص کر اسلامی ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ فرانس کے ساتھ کسی بھی قسم کی کی تجارت کو ختم کیا جائے ۔ پاکستان اور آزاد ریاست جموں وکشمیر میںموجود ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے ۔ اس ایوان کی رائے میں مسلمان امن پسند اسلام کے پیروکار ہیں اور کسی بھی صورت میں سرور دوعالم ۖ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرینگے۔
ممبر اسمبلی محترمہ نسیمہ خاتون کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ اس وقت مظفرآباد، نیلم ویلی ، جہلم ویلی میں تھیلیسیمیا کا شکار بچوںکی تعداد136ہو چکی ہے ۔ ایمز ہسپتال میں(RBC) ریجنل بلڈ سینٹر ہے ۔ تھیلسمیا مرض میں معصوم بچوں کو ماہانہ1ہزار سے زائد پوائنٹس بلڈ درکار ہوتا ہے اور ان پھولوں کی زندگی کی سانسوں کو بڑھانے کیلئے خون کا عطیہ درکار ہوتا ہے ۔ آزادکشمیر کے دور دراز علاقوں سے آئے غریب والدین کیلئے خون کا انتظام کرنا بے حد مشکل ہے اور بچہ کو8سے10دن بعد خون لگانا ضروری ہوتا ہے ۔ سول سوسائٹی بلڈ بنک مظفرآباد نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم ہے جو مستقل بنیادوں پر بلڈ کیمپ لگا کر خون کے عطیات جمع کر کے RBCکو فراہم کرتے ہیں ۔ پچھلے سال سے اس وقت تک ان نوجوانوں نے1600سے زائد پوائنٹس خون جمع کر کے امبور ہسپتال میں قائم RBCکو دیا جو کہ قابل تحسین ہے ۔ قرارداد میں کہا گیا کہ اس ایوان کی رائے میں تھیلیسیما ایک خطرناک مرض ہے اور دن بدن بڑھتے ہوئے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا ہے ۔ نیلم ویلی ، جہلم ویلی میں خاص کر فائرنگ کے دوران زخمیوں کو خود شدید قلت ہوتی ہے ۔ اگر ان علاقوں میں بلڈ بینک قائم جائیں تو بہت سی انسانی زندگیاں بچ سکتی ہیں ۔ اس وقت تک تحقیق کے مطابق کزن میرج کی وجہ سے ہی تھیلیسمیا کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے ۔ حکومت آزادکشمیر سے پہلے کزن میرج کیلئے ٹیسٹ کو لازمی قرار دیتے ہوئے مناسب قانون ساز ی کی جائے۔ اس سلسلہ میں سندھ حکومت ، خیبر پختونخواہ حکومت نے خون کی سکریننگ کزن میرج ایکٹ پاس کیا ہے ار نکاح نامہ میں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ آیا کزن میرج ٹیسٹ کروایا گیا ہے یا نہیں۔ میں اس ایوان سے گزارش کرتی ہوں کہ خون کے عطیات کی فراہمی کیلئے ڈویژن کی سطح پر ریجنل بلڈ سینٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ حکومتی سطح پر ویب سائٹ اور موبائل اپیلی کیشن تیار کی جائے جس میں جملہ ڈونرز کا ڈیٹا اور خون کے عطیات کے حوالہ سے آگہی کے مقاصد حاصل کیے جا سکیں تاکہ ضرورت مند ڈونرز کو سہولت میسر آئے ۔ علاوہ ازیں تمام DHOsکو پابند کیا جائے کہ ہسپتال کے اندر بلڈ بینک قائم کریں تاکہ ایمرجنسی صورت میں مقامی سطح پر سرجری کی سہولت میسر آئے اور تھیلیسمیا کے مرض میں لاحق بچوں کے والدین کو پابند کیا جائے کہ بیمارکی مکمل صحت یابی تک مزید بچے پیدا کر کے ان کی جانوں کو مسلسل خطرات لاحق نہ کریں۔
آزادجموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ممبران اسمبلی محترمہ شازیہ اکبر اور محترمہ رفعت عزیز کی رخصت کی درخواستیں اتفاق رائے سے منظور کر لی گئیں۔ آزادجموں وکشمیر قانون ساز سمبلی کا اجلاس تین روز تک جاری رہنے کے بعد یکم دسمبر بروز منگل تک ملتوی کر دیا گیا۔
واپس کریں