صدر جوزف آر بائیڈن، جونیئر کا افتتاحی خطاب ( مکمل متن)
No image واشنگٹن، ڈی سی( کشیر رپورٹ) چیف جسٹس رابرٹ، نائب صدر ہیرس، سپیکر پلوسی، لیڈر شُومر، لیڈر میکانل، نائب صدر پینس، میرے معزز مہمانو، میرے امریکی ہموطنو، یہ امریکہ کا دن ہے۔ یہ جمہوریت کا دن ہے، تاریخ اور امید کا دن ہے، تجدید اور عزم کا دن ہے۔ مدتوں یاد رہنے والی کٹھن آزمائش کے ذریعے امریکہ کو از سرِنو پرکھا جا چکا ہے۔ اور امریکہ اس چیلنج پر پورا اترا ہے۔ آج ہم فتح کا جشن منا رہے ہیں، کسی امیدوار کی فتح کا نہیں، بلکہ ایک نصب العین کا، جمہوریت کے نصب العین کا جشن منا رہے ہیں۔ عوام، عوام کی مرضی سن لی گئی ہے، اور عوام کی مرضی غور سے سن لی گئی ہے۔ہم نے دوبارہ سیکھا ہے کہ جمہوریت قیمتی ہے۔ جمہوریت نازک ہے۔ اور اس وقت، میرے دوستو، جمہوریت غالب آ چکی ہے۔ لہذا اب، اس مقدس زمین پر جہاں کچھ دن پہلے ہی تشدد نے دارالحکومت کی بنیادیں ہلانے کی کوشش کی تھی، ہم اقتدار کی پرامن منتقلی کے لیے، جیسا کہ ہم دو صدیوں سے زائد کرچکے ہیں، خدا کے زیرسایہ، غیرمنقسم، ایک قوم کی حیثیت سے اکٹھے ہوئے ہیں۔ جب ہم بیقراری، بے باکی، رجائیت پسندی سے عبارت منفرد امریکی انداز سے آگے کی طرف دیکھتے ہیں تو ایک ایسی قوم پر نظریں جا ٹھہرتی ہیں جو ہم جانتے ہیں کہ ہم ہو سکتے ہیں اور جو ہمیں ہرگز ہونا بھی چاہیے۔
میں آج دونوں جماعتوں اپنے پیش روؤں کا یہاں موجود ہونے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ (تالیاں) اور میں جانتا ہوں — (تالیاں)۔ اور میں اپنے آئین کی لچک اور اپنی قوم کی طاقت سے آگاہ ہوں۔ جیسا کہ صدر کارٹر جانتے ہیں جن سے میں نے گزشتہ رات بات کی ہے۔ وہ آج یہاں نہیں آ سکے مگر ہم اُن کو اُن کی زندگی بھر کی خدمات پر سلام پیش کرتے ہیں۔ابھی ابھی میں نے وہ حلف اٹھایا ہے جو سب محب وطن اٹھا چکے ہیں۔ وہ حلف جو سب سے پہلے جارج واشنگٹن نے اٹھایا۔ لیکن امریکی کہانی کا انحصار ہم میں سے کسی ایک پر نہیں، ہم میں سے بعضوں پر نہیں، بلکہ ہم عوام پر ہے جو زیادہ کامل اتحاد کے خواہاں ہیں۔ یہ ایک عظیم قوم ہے۔ ہم اچھے لوگ ہیں۔ اور ہم صدیوں سے طوفانوں اور تصادموں، امن اور جنگ سے نبرد آزما ہوتے ہوئے یہاں تک آ چکے ہیں۔ مگر ہمیں ابھی دور تک جانا ہے۔ہم تیز رفتاری سے اور جلدی میں آگے بڑھیں گے کیوں کہ خطروں بھرے اور اہم امکانات سے بھرپور اس موسم سرما میں ہمیں بہت کچھ کرنا ہے۔ بہت کچھ کو ٹھیک کرنا ہے، بہت کچھ کو بحال کرنا ہے، بہت کچھ کو مندمل کرنا ہے، بہت کچھ تعمیر کرنا ہے، اور بہت کچھ حاصل کرنا ہے۔ ہماری قومی تاریخ میں کم ہی لوگوں کو اتنے زیادہ چیلنج درپیش رہے ہیں یا انہیں ایسے دور سے پالا پڑا ہے جو اتنا زیادہ مشکل یا کٹھن ہو جتنا کہ یہ دور ہے جس میں سے ہم اب گزر رہے ہیں۔
سو برس میں ایک بار آنے والا ایسا وائرس آیا ہے جو خاموشی سے ملک میں پھیل رہا ہے۔ ایک سال میں یہ اتنی زیادہ جانیں لے چکا ہے جتنی امریکہ نے پوری دوسری عالمی جنگ میں گنوائیں تھیں۔ لاکھوں روزگار چلے گئے، لاکھوں کاروبار بند ہوگئے، 400 برس سے نسلی انصاف کی فریاد کا عمل ہمیں متحرک کر رہا ہے۔ سب کے لیے انصاف کے خواب کو اب ٹالا نہیں جائے گا۔ کرہ ارض سے بھی بقا کی فریاد آ رہی ہے۔ ایک ایسی فریاد جو اس سے زیادہ مایوس کن یا اس سے زیادہ واضح نہیں ہو سکتی۔ اور سیاسی انتہا پسندی، سفید فام بالادستی، ابھرتے ہوئے گھریلو تشدد کا ہمیں اب ہرصورت میں مقابلہ کرنا چاہیے اور ہم اسے شکست دیں گے۔ اِن چیلنجوں پر قابو پانے، امریکہ کی روح کو بحال کرنے اور مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے الفاظ سے زیادہ اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں جمہوریت میں سب سے زیادہ مشکل سے حاصل ہونے والی چیز اتحاد کی ضرورت ہے۔ اتحاد۔ ایک اور جنوری میں، 1863ء میں نئے سال کے دن کے موقع پرابراہام لنکن نے غلاموں کی آزادی کے اعلان پر دستخط کیے۔ جب صدر نے قلم سے کاغذ پر لکھا، تو انہوں نے کہا، اور میں ان کے الفاظ نقل کرتا ہوں، “اگر کبھی میرا نام تاریخ میں زندہ رہا تو وہ اس کام کی وجہ سے ہوگا، اور اس میں میری پوری روح موجود ہے۔” “اس میں میری پوری روح موجود ہے۔” آج، جنوری کے اس دن، میری پوری روح اس میں موجود ہے،امریکہ کو اکٹھا کرنے میں، اپنے لوگوں کو متحد کرنے میں، اپنی قوم کو متحد کرنے میں۔
دشمنوں کا ہم سامنا کر رہے ہیں اُن سے لڑنے کے لیے ہم متحد ہو رہے ہیں غصہ، ناراضگی اور نفرت، انتہا پسندی، لاقانونیت، تشدد، بیماری، بے روزگاری اور ناامیدی ہیں۔ متحد ہوکر ہم عظیم کام کر سکتے ہیں، اہم کام کرسکتے ہیں۔ہم غلطیوں کو درست کر سکتے ہیں۔ ہم لوگوں کو اچھے روزگاروں پر لگا سکتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو محفوظ سکولوں میں پڑھا سکتے ہیں۔ ہم اس مہلک وائرس پر قابو پا سکتے ہیں۔ ہم صلہ دے سکتے ہیں — کام کا صلہ دے سکتے ہیں اور درمیانے طبقے کی تعمیرِ نو کر سکتے ہیں اور سب کے لیے صحت کی سہولتوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ ہم نسلی انصاف فراہم کر سکتے ہیں اور ہم ایک بار پھر امریکہ کو دنیا میں بھلائی کی ایک سرکردہ طاقت بنا سکتے ہیں۔میں جانتا ہوں کہ اِن دنوں اتحاد کی بات کرنا ایک احمقانہ خیال دکھائی دے سکتا ہے۔ مجھے علم ہے کہ وہ قوتیں جو ہمیں تقسیم کرتی ہیں وہ گہری اور حقیقی ہیں۔ مگر مجھے یہ بھی علم ہے کہ وہ نئی نہیں ہیں۔ ہماری تاریخ اس امریکی آدرش کہ ہم سب برابر پیدا کیے گئے ہیں اور اس تلخ کریہہ حقیقت کے درمیان ایک مستقل جدوجہد سے عبارت چلی آ رہی ہے کہ نسل پرستی، مقامیت، خوف، شیطان کاری طویل عرصے تک ہمیں جدا کرتی رہی ہے۔یہ ایک مسلسل جنگ ہے اور اس میں فتح کی یقین دہانی کبھی بھی نہیں کرائی جا سکتی۔ خانہ جنگی، عظیم کساد بازاری، عالمی جنگ، نائن الیون سے لے کر جدوجہد، قربانیوں اور ناکامیوں تک قدرت ہم پر مہربان رہی اور ہم غالب آئے۔ ان تمام لمحات میں، ہم میں سے کافی — ہم میں سے کافی – ہم سب کو آگے لے کر چلنے کے لیے اکٹھے ہوئے اور یہ ہم اب بھی کر سکتے ہیں۔
تاریخ، عقیدہ، اور استدلال ہمیں ایک خاص راستہ دکھاتے ہیں، یہ خاص راستہ اتحاد ہے۔ ہم ایک دوسرے کو دشمنوں کے طور پر نہیں بلکہ پڑوسیوں کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو وقار اور احترام سکھا سکتے ہیں۔ ہم قوتوں میں شامل ہو سکتے ہیں، چیخنا چلانا بند کر سکتے ہیں، اور درجہ حرارت میں کمی لا سکتے ہیں۔ کیونکہ اتحاد کے بغیر امن نہیں آ سکتا، صرف تلخی اور غصہ آتا ہے۔ ترقی نہیں صرف تھکا دینے والی برہمی پیدا ہوتی ہے۔ قوم نہیں بنتی بلکہ افراتفری کی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ہماری یہ گھڑیاں بحران اور چیلنج کی تاریخی گھڑیاں ہیں اور آگے چلنے کا راستہ اتحاد ہے۔ ہمیں ان گھڑیوں کا سامنا ریاستہائے متحدہ امریکہ کی حیثیت سے کرنا ہے۔ اگر ہم یہ کریں گے، میں آپ کو ضمانت دیتا ہوں، ہم ناکام نہیں ہوں گے۔ ہم امریکہ میں اُن موقعوں پر کبھی نہیں، کبھی بھی نہیں ناکام ہوئے جب ہم نے متحد ہوکر قدم اٹھائے۔لہذا آج، اسی وقت، اسی جگہ، آئیے ہم سب نئے سرے سے آغاز کریں۔ آئیے دوبارہ ایک دوسرے کو سننا شروع کریں۔ ایک دوسرے کو سنیں۔ ایک دوسرے کو دیکھیں۔ ایک دوسرے کا احترام کریں۔ سیاست کے لیے لازمی نہیں کہ یہ تیزی سے پھیلتی ہوئی ایسی آگ ہو جو اپنے راستے میں آنے والی ہر ایک چیز کو تباہ کرکے رکھ دے۔ ہر اختلاف رائے کو مکمل جنگ کا سبب نہیں بننا ہوتا۔ ہمیں ایسے ماحول کو بہرصورت مسترد کرنا چاہیے جس میں حقائق میں ردوبدل کیا جاتا ہے بلکہ حقائق تراشے جاتے ہیں۔
میرے امریکی ہموطنو، ہمیں اس سب کچھ سے مختلف بننا ہوگا۔ امریکہ کو اس سے بہتر بننا ہوگا اور مجھے یقین ہے کہ امریکہ اس سے بہت زیادہ بہتر ہے۔ صرف اپنے ارد گرد دیکھیے۔ یہاں ہم کیپیٹل کے گنبد کے سائے تلے کھڑے ہیں، جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ خانہ جنگی کے دوران تب مکمل کیا گیا تھا جب یونین حقیقی معنوں میں داؤ پر لگا ہوا تھا۔ اس کے باوجود ہم سرخرو ٹھہرے۔ ہم غالب آئے۔ہم یہاں کھڑے اُس عظیم مال کو دیکھ رہے ہیں جہاں ڈاکٹر کنگ نے اپنے خواب کی بات کی تھی۔ ہم یہاں کھڑے ہیں جہاں 108 برس قبل ایک اور حلف اٹھانے کی تقریب میں ہزاروں مظاہرین نے ووٹ دینے کے حق کے لیے مارچ کرنے والی بہادر عورتوں کا راستہ روکنے کی کوشش کی تھی۔ اور آج ہم امریکی تاریخ میں قومی عہدے پر منتخب ہونے والی پہلی عورت، نائب صدر کملا ہیرس کے حلف اٹھانے کی خوشی منا رہے ہیں۔مجھے یہ نہ بتائیں کی چیزیں تبدیل نہیں کی جا سکتیں!
ہم یہاں، پوٹامک کے اس پار، آرلنگٹن قبرستان کے اس پار ہیں جہاں وہ ہیرو چین کی ابدی نیند سو رہے ہیں جنہوں نے وفاداری کا بھرپور آخری قدم اٹھایا۔ اور یہاں ہم کھڑے ہیں، جہاں ایک فسادی جتھے نے سوچا کہ وہ لوگوں کی رائے کو خاموش کرنے کے لیے تشدد کا استعمال کر سکتے ہیں، جمہوریت کا کام روک سکتے ہیں، ہمیں اس مقدس جگہ سے نکال سکتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوا۔ یہ کبھی نہیں ہوگا۔ آج نہیں ہوگا۔ کل نہیں ہوگا۔ کبھی بھی نہیں ہوگا۔ کبھی بھی نہیں۔ اُن سب کا جنہوں نے ہماری مہم کی حمایت کی، میں اُس اعتماد پرعاجزانہ طور پر مشکور ہوں جوآپ نے ہم پر کیا۔ اُن سب کو جنہوں نے ہماری حمایت نہیں کی، مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجیے: جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے جائیں گے مجھے غور سے سنیے۔ میرا اور میرے دل کا جائزہ لیجیے۔اگر اب بھی آپ متفق نہیں ہیں تو کوئی بات نہیں۔ یہی امریکہ ہے۔ یہ پرامن طور پر اختلاف رکھنے کا حق ہے۔ ہماری جمہوریہ کی حفاظتی حدود کے اندر، غالباً ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اس کے باوجود بھی مجھے واضح طور پر سنیے۔ اختلاف رائے کا نتیجہ عدم اتحاد کی صورت میں ہرگز نہیں نکلنا چاہیے۔ اور میں آپ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ میں تمام امریکیوں کا صدر ہوں گا، تمام امریکیوں کا۔ اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں اُن کے حق میں بھی اتنی ہی سخت جدوجہد کروں گا جنہوں نے میری حمایت نہیں کی جتنی کہ میں اُن کے حق میں کروں گا جنہوں نے میری حمایت کی ہے۔
کئی صدیاں پہلے، میرے عقیدے کے ایک بزرگ، سینٹ آگسٹین نے لکھا کہ قوم ایک ایسا ہجوم ہوتی ہے جو اپنے پیارکے مشترکہ مقاصد سے تشکیل پاتی ہے۔ اپنے پیار کے مشترکہ مقاصد سے تشکیل پاتی ہے۔ وہ کون سے مشترکہ مقاصد ہیں جنہیں ہم بحیثیت امریکی پیار کرتے ہیں، جو ہمیں امریکی بناتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ ہم جانتے ہیں۔ مواقع، سلامتی، آزادی، وقار، احترام، عزت اور، جی ہاں، سچ ۔ (تالیاں) حالیہ ہفتوں اور مہینوں نے ہمیں ایک تکلیف دہ سبق سکھایا ہے۔ سچ موجود ہوتا ہے اور جھوٹ موجود ہوتے ہیں۔ جھوٹ اقتدار اور منافعے کے لیے بولے جاتے ہیں۔اور شہریوں کی حیثیت سے، امریکیوں کی حیثیت سے، اور خاص طور پر لیڈروں کی حیثیت سے، ایسے لیڈروں کی حیثیت سے جنہوں نے ہمارے آئین کا احترام کرنے اور ہماری قوم کا تحفظ کرنے کا عہد کیا ہوتا ہے، سچ کا دفاع کرنا اور جھوٹ کو شکست دینا ہم میں سے ہر ایک کا فرض بنتا ہے اور ذمہ داری بنتی ہے۔
دیکھیے میں جانتا ہوں کہ میرے بہت سے امریکی ہموطن مستقبل کو خوف اور گھبراہٹ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ اپنی ملازمتوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ میرے والد کی طرح وہ رات کو بستر پر لیٹے چھت کو گھورتے رہتے ہیں، سوچتے ہیں کہ کیا میں اپنی صحت کی انشورنس برقرار رکھ سکوں گا، کیا میں مکان کی قسط ادا کرسکوں گا؟ اپنے کنبوں کے بارے میں سوچنا اس کے بعد کیا ہوگا۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ یہ باتیں میری سمجھ میں آ چکی ہیں۔مگر اِن کا جواب اپنی ذات میں بند ہو جانا نہیں ہے، مسابقتی دھڑوں میں جائے پناہ لینا نہیں ہے، اُن لوگوں پرعدم اعتماد کرنا نہیں ہے جو دکھائی نہیں دیتے – آپ کی طرح دکھائی نہیں دیتے یا اُس طرح عبادت نہیں کرتے جس طرح آپ عبادت کرتے ہیں یا اپنی خبریں اُن ذرائع سے حاصل نہیں کرتے جن سے آپ حاصل کرتے ہیں۔ ہمیں ایسی غیرمہذب جنگ کو ہرصورت میں ختم کردینا چاہیے جو سرخ کو نیلے کے مد مقابل لا کھڑا کرتی ہے، دیہی بمقابلہ – دیہی بمقابلہ شہری ہو، جو قدامت پسند بمقابلہ آزاد خیال ہو۔ اگر ہم اپنے دلوں کو سخت کرنے کی بجائے اپنی روحوں کے دورازے کھول لیں تو ہم یہ کام کر سکتے ہیں۔بشرطیکہ ہم تھوڑی سی برداشت اور عاجزی سے کام لیں، اور اگر ہم اپنے آپ کو دوسرے کی جگہ رکھنے کے لیے تیار ہوں – میری والدہ کہا کرتی تھیں – ایک لمحے کے لیے اپنے آپ کو اُن کی جگہ رکھ کر دیکھیں۔ کیونکہ زندگی کے بارے میں حقیقت یہ ہے: قسمت آپ کی جھولی میں جو کچھ ڈالتی ہے اُس کا کوئی حساب کتاب نہیں کیا جاتا۔کچھ دن ایسے جب آپ کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جب ہمیں مدد کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے۔ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ یہی وہ سب کچھ ہے جو ہم ایک دوسرے کے لیے کرتے ہیں۔اگر ہم اسی طرح چلیں گے تو ہمارا ملک زیادہ مضبوط ہوگا، زیادہ خوشحال ہوگا، مستقبل کے لیے زیادہ تیار ہوگا۔ اور پھر بھی ہم اختلاف کر سکتے ہیں۔ میرے امریکی ہموطنو، ہمیں جو کام کرنے ہیں اُن میں ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت پڑنے والی ہے۔ ہمیں اس تاریک موسم سرما میں اپنی تمام تر قوت محفوظ رکھنے کی — ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم ایک ایسے وقت میں داخل ہو رہے ہیں جو اس وائرس کا کٹھن ترین اور مہلک ترین عرصہ ہے۔
ہمیں سیاست کو بہر صورت ایک طرف رکھنا چاہیے اور بنیادی طور پر ایک قوم، ایک قوم کی حیثیت سے اس وبا کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ اور میرا آپ سے یہ وعدہ ہے۔ جیسا کہ بائبل میں کہا گیا ہے، “ہو سکتا ہے کہ آپ کو تھوڑی دیر کے لیے رونا پڑے، مگر جب آپ رو چکیں گے تو آپ کو خوشی حاصل ہوگی۔” ہم اکٹھے مل کر اس سے نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اکٹھے مل کر۔ دوستو دیکھیے، یہاں پر موجود میرے وہ تمام رفقا جن کے ساتھ میں نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں خدمات انجام دیں، ہم سب یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا دیکھ رہی ہے، آج ہم سب کو دیکھ رہی ہے۔ لہذا اُن کے نام جو ہماری سرحدوں سے باہر ہیں میرا یہ پیغام ہے۔امریکہ کو آزمایا جا چکا ہے، اور ہم ان سے زیادہ مضبوط بن کر نکلے ہیں۔ ہم اپنے اتحادوں کو ٹھیک کریں گے اور ایک بار پھر دنیا کے ساتھ مل کر کام کریں گے: نہ صرف گزرے ہوئے کل کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے بلکہ آج کے اور آنے والے کل کے چیلنجوں کے لیے بھی۔ اور ہم اپنی طاقت کی مثال سے قیادت نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنی مثال کی طاقت سے قیادت کریں گے۔ (تالیاں) ہم امن، ترقی، سلامتی کے لیے ایک مضبوط اور قابل اعتماد شراکت دار بنیں گے۔
دیکھیے آپ سب جانتے ہیں، اس ملک میں ہم بہت زیادہ گزر رہے ہیں۔ صدر کی حیثیت سے اپنے پہلے قدم کے طور پر میں آپ سب کو یہ کہنا چاہوں گا کہ اُن سب کو یاد کرنے کے لیے میرے ساتھ شامل ہوں جنہیں ہم نے گزشتہ برس وبا کے ہاتھوں گنوا دیا، وہ 400,000 امریکی ہم وطن — مائیں، باپ، خاوند، بیویاں، بیٹے، بیٹیاں، دوست، پڑوسی، اور رفقائے کار۔ ہم اُن کا اکرام ایسے لوگ اور ایسی قوم بن کر کریں گے جو ہم جانتے ہیں کہ ہم بن سکتے ہیں اور ہمیں بننا چاہیے۔لہذا میں آپ سے کہوں گا کہ آئیے اُن کے لیے ایک خاموش دعا کریں جن کی زندگیاں چلی گئیں اور اُن کے لیے بھی جو پیچھے رہ گئے ہیں اور اپنے ملک کے لیے بھی۔آمین۔ دوستو، یہ آزمائش کا وقت ہے۔ ہمیں اپنی جمہوریت اور سچ پر حملے کا سامنا ہے۔ ایک تیزی سے پھیلتا ہوا وائرس، بڑھتی ہوئی عدم مساوات ، نظاماتی نسل پرستی کا ڈنگ، موسمیاتی بحران۔ دنیا میں امریکہ کا کردار۔ اِن میں سے کوئی ایک بھی ہمیں سنگین طریقوں سے چیلنج کرنے کے لیے کافی ہوگا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمیں فوری طور پر اِن تمام کا سامنا ہے۔ ہم پر جتنی ذمہ داریاں پڑ چکی ہیں اُن میں سے یہ ذمہ داری سب سے بڑی ہے۔ اب ہم ہمارا امتحان ہونے جا رہا ہے۔
کیا ہم آگے بڑھنے جا رہے ہیں، ہم سب؟ یہ دلیری کا وقت ہے کیونکہ بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اور یہ یقینی بات ہے۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں، ہمیں پرکھا جائے گا کہ، آپ اور میں نے، اپنے دور کے ان تیزی سے پھیلتے ہوئے بحرانوں پر کس طرح قابو پایا۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس امتحان پر پورا اتریں گے۔ کیا ہم اس شاذ و نادر آنے والی اور مشکل گھڑی میں کامیابی سے ہمکنار ہوں گے؟ کیا ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں گے، اور اپنے بچوں کو ایک نئی اور بہتر دنیا دے کر جائیں گے؟ میرا یقین ہے کہ ہمیں بہرصورت اییسا ہی کرنا چاہیے۔ مجھے یقین ہے آپ بھی اسی طرح سوچتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم ایسے ہی کریں گے۔ اور جب ہم ایسا کریں گے تو ہم ریاستہائے متحدہ امریکہ کی تاریخ میں ایک نئی کہانی رقم کریں گے، امریکی کہانی، ایک ایسی کہانی جو ہو سکتا ہے ایک ایسے گانے کی طرح سنائی دے جس کی میرے نزدیک بہت اہمیت ہے۔ یہ “امریکی قومی ترانہ” کہلاتا ہے۔ اور اس میں ایک شعر ایسا ہے جو کم از کم میرے نزدیک بہت نمایاں ہے۔
یہ کچھ اس طرح ہے: “صدیوں کا کام اور دعائیں ہمیں اس دن تک لے آئی ہیں۔ ہماری میراث کیا ہوگی؟ ہمارے بچے کیا کہیں گے؟ جب میرے دن پورے ہو جائیں تو مجھے میرے دل میں جاننے دینا۔ امریکہ، امریکہ، میں نے اپنے آپ کا بہترین آپ کو دیا۔” آئیے اس میں شامل کریں۔ آئیے اس عظیم قوم کی تشکیل پاتی ہوئی کہانی میں اپنا کام اور دعائیں شامل کریں۔اگر ہم یہ کریں گے، اس وقت جب ہمارے دن پورے ہو چکے ہوں گے، ہمارے بچے اور ہمارے بچوں کے بچے ہمارے بارے میں یہ کہیں گے، انہوں نے اپنا بہترین دیا، انہوں نے اپنا فرض ادا کیا، انہوں نے ایک ٹوٹے ہوئے ملک کو ٹھیک کیا۔ میرے امریکی ہموطنو، میں خدا اور آپ سب کے سامنے ایک ایسے مقدس حلف کے ساتھ بات وہیں پر ختم کروں گا جہاں سے میں نے شروع کی تھی۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں آپ سے ہمیشہ سچ بولوں گا۔ میں آئین کا دفاع کروں گا۔ میں، اپنی جمہوریت کا دفاع کروں گا۔ میں امریکہ کا دفاع کروں گا۔اور میں سب کچھ دے دوں گا، آپ سب کو، آپ ہر ایک چیز رکھیں – میں آپ کی خدمت کرتے ہوئے اقتدار نہیں امکانات کے بارے میں سوچوں گا، ذاتی زخموں کا نہیں عوامی بھلائی کا سوچوں گا۔ ایک ساتھ مل کر ہم امید کی امریکی کہانی لکھیں گے، خوف کی نہیں۔ اتحاد کی، تقسیم کی نہیں۔ روشنی کی، اندھیرے کی نہیں۔ شائستگی اور وقار کی کہانی، محبت اور شفایابی کی کہانی، عظمت اور بھلائی کی کہانی۔یہ ایک ایسی کہانی ہو جو ہماری راہنمائی کرے، ایسی کہانی ہو جو ہمیں متاثر کرے، ایسی کہانی ہو جو آنے والے وقتوں کو بتائے کہ ہم نے تاریخ کی آواز پر لبیک کہا، ہم نے درست فیصلے کیے۔ ہماری نگرانی میں جمہوریت اور امید، سچ اور انصاف مرے نہیں بلکہ پھلے پھولے امریکہ نے ملک میں آزادی کو محفوظ بنایا اور ایک بار پھر دنیا کے لیے روشنی کی کرن بن گیا۔ ہمارے آبا و اجداد کا، ایک دوسرے کا، اور آنے والی نسلوں کا ہمارے ذمہ یہی وہ قرض ہے جو واجب الادا ہے۔لہذا مقصد اور عزم کے ساتھ ہم اپنے وقت کے ان کاموں کی طرف، عقیدے کا سہارا لیتے ہوئے، یقین سے قوت پاتے ہوئے اور اپنے اپ کو ایک دوسرے کی خاطر اور اپنے دلوں سے محبت کرنے والے ملک کی خاطر وقف کرتے ہوئے، رجوع کرتے ہیں۔ خدا امریکہ کو سلامت رکھے اور خدا ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرمائے۔ امریکہ، آپ کا شکریہ۔


واپس کریں