آئین کی پامالی کرنے والے چند افسر پوری فوج کو بدنام کر رہے ہیں۔نواز شریف
No image اسلام آباد۔ مسلم لیگ (ن)کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ عمران کے سلیکٹرز ، کو اس کا جواب دینا پڑے گا، آپ جواب دیئے بغیر گھر نہیں جاسکتے ،پاکستان کی پارلیمنٹ کے بغیر اس کے ادارے کام نہیں کرسکتے، حتی کہ عدلیہ بھی کام نہیں کر سکتی، جب تک کہ ہمیں یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا ہم پیچھے نہیں بیٹھیں گے۔ نواز شریف نے مسلم لیگ(ن) کے ارکان پارلیمنٹ اور ٹکٹ ہولڈرز کے اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر فوج اپنے آئینی کردار پر قائم رہی تو دنیا کی بہترین فوج بن سکتی ہے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ فوج آئینی حدود پر قائم رہتی ہے ، لیکن بہت کم لوگ ہیں جو آئین کو پامال کرتے ہیں ہیں، ان ناموں کی تعداد کم ہے ، وہ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں لیکن انہوں نے پوری فوج کو بدنام کیا ہے اور یہ قابل قبول نہیں ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ میں اپنے فوجیوں اور جرنیلوں کا احترام کرتا ہوں ، لیکن میں ان لوگوں کا احترام نہیں کرسکتا جو آئین کا احترام نہیں کرتے ، جو انتخابات میں دھاندلی کرتے ہیں۔سابق وزیر اعظم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اب تک کسی نے بھی ملک کی مشکلات اور سیاسی عدم استحکام کی "بنیادی وجہ کی تشخیص کرنے کی کوشش نہیں کی ۔
نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے الیکن جیت لیا تھا لیکن انہیں ( عمران خان کو) کامیاب کرایا گیا۔"جن لوگوں نے 2018 کے عام انتخابات میں دھاندلی کی تھی ، انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کا جرم کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم بھیڑ بکریاں نہیں ہیں کہ جنہیں ہانکا جا سکے، اگر ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے تو اب ایسا نہیں ہوگا ،ہم پاکستان کو ایک قابل احترام ملک بنائیں گے ۔نواز شریف نے اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کو بھی موقف اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کرائے کے ممبر نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بزدلوں کی ضرورت نہیں ہے، اگر آپ خوفزدہ ہیں تو آپ اسمبلیوں میں شامل ہونے کے مستحق نہیں ہیں۔
نواز شریف نے پانامہ پیپرز کیس میں انہیں سپریم کورٹ کے نا اہل قرار دینے کے 2017 کے فیصلے کے بارے میں بھی بات کی ، جس میں انھیں یہ کہتے ہوئے مجرم پایا گیا تھا کہ انھیں وصول شدہ تنخواہ کا اعلان نہیں کیا گیا ، انہوں نے کہا ، اگر مجھے ہٹانے کی کوئی معقول وجہ ہوتی تو ، میں سمجھ جاتا کہ مجھے اپنے اس جرم کی سزا دی گئی ہے، "میرے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر مجھے نااہل کردیا گیا۔"مجھے ایک اقامہ کی ضرورت کیوں ہوگی؟ اگر مشرف نے 1999میں مارشل لا نافذ نہ کیا ہوتا تو مجھے اپنے کنبے کے ساتھ نہ چھوڑنا پڑتا۔ وہاں(یو اے ای) رہنے کے لئے مجھے ایک اقامہ کی ضرورت تھی۔ مجھے سات سال بیرون ملک ہی رہنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتی افراط زر اور بجلی اور گیس کی قیمتوں کی وجہ سے پاکستان میں لوگ رو رہے ہیں ۔"کیا آپ نے اس بارے میں سوچا ہے کہ وہ لوگ کیسے زندگی گزار رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جب وہ پاکستان میں جیل میں تھے تو بھی ملک کی صورتحال کس طرح تبدیل ہوئی ہے اور انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان کی پارٹی کے دور حکومت کے بعد لوگوں کی زندگی مشکل ہوگئی ہے۔نواز شریف نے کہا کہ ایسے وقت میں جب لوگوں کو پانی کے ساتھ روٹیاں کھانی پڑیں گی ، یہ میرے اور آپ کے لئے پرسکون طور پر بیٹھنا حرام ہو جاتا ہے۔ اگر ہم بات نہیں کرتے ہیں تو ہم بھی قصوروار ہوں گے۔
نواز شریف نے سابق ڈی جی ایف آئی اے کا نام لے کر کہا کہ بشیر میمن نے کل نیب کی اصل حقیقیت کھول دی ہے۔انہوں نے کہا کہ کیا میں صرف عمران خان کو ہی اس کا ذمہ دار ٹھہراں یا اس کے اصل ذمہ داروں کی نشاندہی کروں ؟انہوں نے کہا کہ عمران خان کو لانے والو، یہ عوام کا جذبہ دیکھ لیں، یہ سوغات ہمیں نہیں چاہیے، اسے جتنی جلدی ہو لے جائیں۔ اس کی وجہ سے غریب کا چولہا بجھ گیا ہے۔ آج معیشت منہ کے بل گر چکی ہے۔ بلین ٹری کا منصوبہ کہاں گیا۔ پشاور بی آر ٹی کی لاگت پنجاب کے تین میٹروز سے زیادہ ہے اور چینی چور عوام کا پیسہ لوٹ کر بھاگ گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ چینی چوروں کو خود بھگا دیا گیا ہے، ادویات انتہائی مہنگی کر دی گئی ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ جنھوں نے یہ کیفیت پیدا کی ہے، انہیں سلیکٹرز کو قوم کے سامنے آ کر اس کا جواب دینا ہو گا، اس کے بغیر پاکستان کا نظام نہیں چل سکتا، عدالتیں، کاروبار کچھ نہیں چل سکے گا۔انھوں نے کہا کہ 'مجھے تنخواہ پر نکالنے والے بتائیں گے کہ عمران خان بنی گالہ کی منی ٹریل کب دے گا۔ اب قوم ان سے رسیدیں مانگتی ہے کہ بنی گالا کی منی ٹریل دی جائے، زمان پارک کے گھر کی تزئین و آرائش کی رسییدیں دیں۔ انھوں نے کہا کہ 'علیمہ خان کب رسیدیں دیں گی عاصم باجوہ کب رسیدیں دیں گے،ثاقب نثار نے تو عمران خان کو کلیئر کر دیا تھا۔'نواز شریف نے کہا کہ 'جس جج نے میرے خلاف فیصلہ دیااس کی عدالت سے کرنل کیوں برآمد ہوا۔نواز شریف نے اپنی تقریر کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے برطرف کیے گئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تقریر کا وہ حصہ بھی سنایا جس میں انھوں نے آئی ایس آئی پر عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے سے متعلق الزامات عائد کیے تھے۔

واپس کریں