کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف مقدمے کا مدعی پولیس پر حملے میں ملوث اور مفرور نکلا
No image کراچی۔ لاہور میں اپوزیشن رہنمائوں کے خلاف غداری اور بغاوت کے الزامات میں مقدمہ درج کرانے والے شخص کی طرح کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف کراچی میں مزار قائد ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں مقدمہ درج کرانے والا شخص بھی پولیس کو مطلوب اور عدالت سے مفرور نکلا۔اطلاعات کے مطابق کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف مقدمہ درج کرانے والے مدعی وقاص خان کی درخواست ضمانت منظور ہو گئی۔پولیس نے مدعی مفرور ملزم وقاص خان کے خلاف تھانہ سپر ہائی وے میں مقدمہ درج ہونے کی تصدیق کی ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم وقاص خان پولیس پر حملے کے مقدمے میں نامزد ہے اور اس نے 25 اگست 2019 کو گلشن معمار میں پولیس پر حملہ کیا تھا۔پولیس کی تصدیق کے بعد مفرور ملزم وقاص خان نے اپنی ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا اور سندھ ہائی کورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دی ہے۔سندھ ہائی کورٹ نے وقاص خان کی درخواست ضمانت 30 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرتے ہوئے ملزم کو 10 روز میں متعلقہ تھانے جانے کی ہدایت کی ہے۔
18 اکتوبر کو کراچی میں 'پی ڈی ایم ' کے جلسے کے سلسلے میں مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈصفدر کراچی پہنچے تھے جہاں مزار قائد پر حاضری کے دوران محمد صفدر نے ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگوائے تھے جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور پولیس نے جلسے کے اگلے روز علی الصبح کیپٹن صفدر کو نجی ہوٹل سے گرفتار کیا تاہم شام میں عدالت نے ان کی منظور کرتے ہوئے رہا کردیا گیاتھا۔ سندھ حکومت نے ان کی گرفتاری کے خلاف کاروائی سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا تھا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپوزیشن رہنمائوں کے خلاف مقدمات دائر کرانے کے لئے جرائم پیشہ افراد کو استعمال کر رہی ہے۔
واپس کریں