کشمیریوں کا مشترکہ مطالبہ رائے شماری ، تحریک آزادی کی تقویت اور قسیم کشمیر کے خلاف آزاد کشمیر کا وجود ضروری ہے، وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان
No image مظفر آباد (کشیر رپورٹ) وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ ہمیں آپس میں نظریاتی اختلافات سے گریز کرنا چاہیے ۔ ہمارا مشترکہ مطالبہ رائے شماری ہے ۔دشمن ہمیں نظریاتی طور پر انتشار کا شکار کر کے کمزور کرنا چاہتاہے ۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کو پروپیگنڈہ کے ذریعے آزادکشمیر سے متنفر کیا جاتا ہے ۔ ہم گلگت بلتستان کے لوگوں کے حقوق کے مخالف نہیں ہیں ۔ گلگت بلتستان کے حوالہ سے متعلقہ فورمز پر بات ہو چکی ہے ۔ میں ریاست کا وزیراعظم ہوں اور اپنے حلف کی پاسداری کرتا ہوں ۔ میں کسی کا ذاتی ترجمان نہیں نہ مجھے اسلام آباد سے کسی نے رکھا ہوا ہے ۔آزادکشمیر کا وجود تحریک آزادی کشمیر اور ریاست کی تقسیم کے خلاف ضروری ہے ۔ افواج پاکستان ہماری سلامتی اور بقاکی علامت ہیں۔ پا ک فوج میں آزادکشمیر کے ہزاروں نوجوان شامل ہیں جو ملک کی خاطر اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کر رہے ہیں ۔ ہمیں کشمیر یت کو ترجیح دینا ہو گی ۔ کشمیر یت سے مراد صرف کشمیر ی زبان بولنے والا مسلمان نہیں بلکہ ہر مذہب اور زبان بولنے والا کشمیر ی ہے ۔ ہماری لڑئی ہندو مذہب سے نہیں بلکہ انتہا پسند سوچ رکھنے والے مودی کی حکومت سے ہے ۔ اس وقت ہمارا مقابلہ عیار دشمن سے ہے جواقتصادی ،فوجی اور خارجی سطح پر مضبوط ہے ۔ پاکستان میرے وجود کا حصہ ہے مجھے کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ۔ آج کل ملک میں غداری کا سرٹیفکیٹ باٹنے کی روایت چل نکلی ہے جو تشویشناک ہے ۔
ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر نے ہندوستان کی جانب سے27اکتوبر 1947کومقبوضہ جموں وکشمیر میں زبر دستی فوجیں اتارنے ، غاصبانہ قبضے اور ریاستی دہشتگردی کے خلاف یوم سیاہ کے حوالہ سے منعقدہ مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں میں تمام سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ ، آل پارٹیز حریت کانفرنس ، سول سوسائٹی اور تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افرادنے شرکت کی۔تقریب سے وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان ، آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنوینئر محمد حسین خطیب ،جموں وکشمیر پیپلزپارٹی کے صدر سردارحسن ابراہیم، آل جموںوکشمیر مسلم کانفرنس کے نائب صدر دیوان چغتائی ، نائب امیر جماعت اسلامی سید نذیر حسین شاہ نے خطاب کیا۔ جبکہ تقریب میں مشیر حکومت سردار ضیا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل فرحت علی میر ، سیکرٹریز حکومت ، سربراہان محکمہ جات اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ ہم گلگت بلتستان کے لوگوں کے حقوق کے مخالف نہیں ہیں ۔ لیکن بدقسمتی سے ہمیشہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو آزاد کشمیرسے متنفر کیا گیا ہے ۔ ریاست جموںوکشمیر ایک وحدت ہے ہم سب تحریک آزادی کشمیر کے فریق ہیں اور سب کو ملکر ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مشترکہ طور پر رائے شماری کا مطالبہ کرنا چاہیے ۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق جب رائے شماری کا فیصلہ ہو تو پھر ہرفریق آگے کی بات کرے ۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہماری اپنی فوج ہے ۔ آزادکشمیر کے نوجوان بھی اس فوج کا حصہ ہیں ۔ تاریخ کے بارہ میں کچھ لوگ پروپیگنڈا کر رہے ہیں انہیں تاریخ کا مطالعہ کر لینا چاہیے 1947میں قبائل ہماری دعوت پر آزاد کشمیر آئے ۔وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہا کہ آج کے دن ہم مقبوضہ کشمیر میں حریت کے اسیر قائدین کی رہائی ، کالے قوانین کے کاتمہ ، میڈیا کی بندش ، تحریر و تقریر کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ ہم وفاقی وزارت خارجہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹس کو منظرعام پر لانے میں اپنا کردارادا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ میں کشمیری شہداکو سلام پیش کرتا ہوں اور کشمیر ی بچوں کے ٹارچر کی شدید مذمت کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہماری صفوں میں دشمن چھپا ہوا ہے جسے بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں ساری لائن آف کنٹرول کا دور ہ کر رہا ہوں جس میں تمام سیاسی قیادت کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ میرے ساتھ آئیں اور لائن آف کنٹرول پر بسنے والوں کے حوصلے بڑھائیں اس معاملے پر کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے یہ ہم سب کا فرض ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ فرانس میں بنائے جانے والے گستاخانہ خاکوں اور فرانس کے صدر کے انتہاپسند انہ بیان کی شدید مذمت کرتا ہوں اور اس معاملہ پر او آئی سی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتا ہوں تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات پیش نہ آئیں کیونکہ اگر اس طرح کے واقعات پیش آتے رہے تو یہ امن عالم کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوں گے ۔
یوم سیاہ کی اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنوینئرمحمد حسین خطیب نے کہا کہ آج 27 اکتوبر مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر منا رہے ہیں تاکہ پیلٹ گن کے ذریعے بینائی سے محروم ہونے والے کشمیریوں ، عصمت دری ہونے والی بیٹیوں اور حالیہ شدید سردی میں تباہ شدہ گھروں میں رہنے والے مہاجرین کو بتا سکیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں ہم نے گذشتہ 73 سالوں میں تقرریوں سے کشمیر کو آزادکروانے کی کوشش کی جبکہ بھارت تدبیروں سے اقوام عالم کو اپنے ظلم و استبداد کے باوجود خاموش رہنے پر مجبو ر کر رہا ہے جبکہ ہمیں بھارت کو اقوام عالم کے سامنے جابر ثابت کرنا ہے ۔ ہم نے جموں کے ڈوگرہ ، دلت اور لبرل تنظیموں کو اپنے ساتھ شامل کیا ہے جو ہندوستان کے غاصبانہ قبضہ کو غیر آئینی سمجھتے ہیں ۔ ہمیں تدبیر سے مسئلہ کشمیر کو حل کروانے کے لیے کوشش کرنی ہے اور اس مشکل وقت میں مہاجرین کی دل جوئی بھی ضروری ہے ۔
ممبر آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی سردار حسن ابراہیم نے کہا کہ غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان نے 19 جولائی1947 کو اپنے گھر میں بیٹھ کر جو قرارداد پیش کی تھی اس کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں ۔ ہم نے پاکستان بننے سے 20 دن پہلے فیصلہ کیا تھا کہ ہم پاکستانی ہیں اور اس کا حصہ بنیں گے ۔ کوئی بھی منصوبہ تحریک آزادی کشمیر سے آگے نہیں جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر آزاد نہیں ہوتا یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ گلگت بلتستان مقبوضہ کشمیر کا حصہ ہے اور حکومت پاکستان گذشتہ 73 سال کی قربانیوں کا لحاظ کرتے ہوئے ایسا کوئی قدم نہ اٹھائے کہ لائن آف کنٹرول کے پار یہ پیغام جائے کہ پاکستان اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گیا ہے ۔
نائب صدر آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس دیوان علی چغتائی نے کہا کہ مسلم کانفرنس نے 19 جولائی 1947 کو قرارد اد الحاق پاکستان پاس کروائی کیونکہ ہمارے دل پاکستان کے ساتھ تھے جبکہ ہندوستان نے 27 اکتوبر1947 کو سرینگر میں فوجیں اتار کر وہ سلسلہ 5 اگست 2019 تک پہنچا دیا اب آزادکشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی قیادت ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر مشترکہ لائحہ عمل طے کرے ۔ میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگوں اور مسلح افواج پاکستا ن کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جن کی وجہ سے تحریک آزادی کشمیر آج بھی زندہ ہے ۔
نائب امیر جماعت اسلامی آزادکشمیر سید نذیر حسین شاہ نے کہا کہ پاکستان کے رہنمائوں سے گزارش ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے عملی کوشش کریں ۔ گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کو صوبہ بنانا کشمیر کی قراردادوں کے ساتھ غداری ہو گی ۔ تقریب کے اختتام پرشہداکشمیراور تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا کی گئی ۔

واپس کریں