کراچی واقعہ سے متعلق فوج کی کورٹ آف ا نکوائری مکمل، متعلقہ افسران معطل،ضابطے کی خلاف ورزی پر کاروائی ' جی ایچ کیو' میں ہوگی۔'آئی ایس پی آر'
No image راولپنڈی۔ پاک فوج نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری کے واقعے پر آئی جی سندھ کے تحفظات کے معاملے کی انکوائری مکمل کرکے متعلقہ افسران کو معطل کرتے ہوئے ذمہ داریوں سے ہٹادیا گیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ'آئی ایس پی آر' کے مطابق ضابطہ کی خلاف ورزی پر افسران کے خلاف کارروائی جی ایچ کیو میں کی جائے گی۔'آئی ایس پی آر' کے مطابق آئی جی سندھ کے واقعے کی فوج کی کورٹ آف انکوائری مکمل کرلی گئی ہے جو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حکم پر کی گئی۔'آئی ایس پی آر' کا کہنا ہے کہ ان افسران نے جذباتی ردعمل کا اظہار کیا، افسران کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق مزید انکوائری متعلقہ ڈیپارٹمنٹس میں کی جائے گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ آرمی چیف کی ہدایت پر کی گئی تحقیقات کے مطابق سندھ رینجرز اور آئی ایس آئی کراچی کے افسران مزار قائد کی بے حرمتی کے نتیجے میں شدید عوامی رد عمل سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے میں مصروف تھے، افسران پر مزار قائد کی بے حرمتی پر قانون کےمطابق بروقت کارروائی کے لیے شدید دباؤ تھا۔آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہےکہ متعلقہ افسران نے شدید عوامی ردِ عمل اور تیزی سے بدلتی ہوئی کشیدہ صورتحال کے مدِ نظر سندھ پولیس کے طرزِ عمل کو اپنی دانست میں ناکافی اور سُست روی کا شکار پایا اور کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے اپنی حیثیت میں جذباتی رد عمل کا مظاہرہ کیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ متعلقہ افسران کو ایسی صورتحال سے گریز کرنا چاہیے تھا جس سے ریاست کے دو اداروں میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق کورٹ آف انکوائری کی سفارشات کی روشنی میں متعلقہ افسران کو اپنی موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے جب کہ ضابطہ کی خلاف ورزی پر ان افسران کے خلاف کارروائی جی ایچ کیو میں عمل میں لائی جائے گی۔
واپس کریں