اسلام آباد میں انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس کا شر انگیز عنوان ، کیا پاکستان کی کشمیر پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ہے ؟
No image اسلام آباد (کشیر رپورٹ) پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں ایک غیر معروف شخصیت کے ذریعے کشمیر کاز کے اہداف تبدیل کرانے کی ایک کوشش سامنے آئی ہے۔آزادی پسند کشمیریوں کے لئے ایک شر انگیز اور سازشانہ عنوان کے تحت انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس کے انعقاد کی اعلی سطحی کوشش اشتعال انگیز اقدام ہے۔
انڈیا میں پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط نے وضاحت میں بتایا ہے کہ آج (10 نومبرکو) کانفرنس کے شرکاء نے کانفرنس کے عنوان پر اعتراض کیا گیا ، جس پر یہ عنوان'' ڈراپ'' کردیا گیا اور تمام مقررین نے حق خود ارادیت اور کشمیریوں کی حمایت کی ہے۔تاہم عبدالباسط کی اس وضاحت کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایک غیر معروف شخص کے ذریعے وزیر خارجہ ،گورنر سندھ، صدر آزادکشمیر اور سابق سفارت کاروں کی اس کانفرنس میں ایسا عنوان تیار کرنے والے حلقے کون ہیں اور ان کے مقاصد کیا ہیں؟ کیا اس طرح پاکستان انتظامیہ کی کشمیر پالیسی میں نمایاں تبدیلی کے اشارے دیئے جا رہے ہیں؟اس سے اسلام آباد میں پاکستان انتظامیہ کی کشمیر سے متعلق سوچ کے خطوط بھی ظاہر ہوتے ہیں۔کشمیری حلقوں کی طرف سے ا س واقعہ اور صورتحال پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں منگل کو ایک اعلی ہوٹل میں انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس منعقد کی گئی جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ،صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان،گورنر سندھ عمران اسماعیل، سابق اٹارنی جنرل پاکستان انوار منصور خان،دفاع کے سابق وزیر سابق سیکرٹری لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی،انڈیا میں پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط ،سابق سفیر جاوید حفیظ اور جموں وکشمیر سالیڈیٹری موومنٹ کی چیئر پرسن عظمی گل نے خطاب کیا۔ورلڈ کشمیر فورم کے چیئرمین حاجی محمد رفیق پردیسی کے زیر اہتمام اس کانفرنس کا موضوع '' 'آئی او کے' میں امن اور اٹانومی بحال کرنے کا چیلنج'' رکھا گیا۔
انڈیا سے آزادی کے لئے 73سال نسل درنسل قربانیاں دینے اور بالخصوص گزشتہ تیس سال کے دوران شہادتوں اور ظلم و جبر کے تمام ہتھکنڈوں کے باوجود آزادی کی مزاحمتی تحریک جاری رکھنے والے کشمیریوں کے لئے پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں کشمیر کے نام پر اس طرح کے اشتعال انگیز عنوان کے تحت منعقدہ کانفرنس میں وزیر خارجہ،صدر آزاد کشمیر اور دوسری پاکستانی شخصیات کی شرکت تشویشناک اور قابل مذمت ہے۔
بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی نے ٹوئٹر پہ ایک بیان میں کہا ہے کہ 'آئی او کے' کی اٹانومی کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے کے لئے اسلام آباد میں ہونے والی ایک کانفرنس کو دیکھنا انتہائی افسوسناک ہے اور پاکستان کے وزیر خارجہ کے علاوہ آزادکشمیر کے صدر نے بھی اس میں شرکت کی۔سید علی گیلانی نے ارباب اختیار پاکستان سے سوال کیا کہ کیا یہ کشمیریوں کی عوامی تحریک کا ہدف تبدیل کرنے کی کوشش ہے؟
پاکستان کے سابق سینئر سفارت کار عبدالباسط ،جو اس کانفرنس میں بھی شریک تھے، نے سید علی شاہ گیلانی کے اس بیان پر اپنی جوابی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ میں گیلانی صاحب سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ وہ اس کانفرنس میں شامل ہوئے اور مکمل طورپر ناقابل قبول اس تھیم ( عنوان کانفرنس) کو مسترد کرتے ہوئے ڈراپ کر دیا گیا۔عبدالباسط نے مزید کہا کہ کانفرنس کے تمام مقررین نے حق خود ارادیت اور کشمیریوں کی مکمل حمایت کی۔
واپس کریں