بلدیاتی الیکشن میں شمولیت سے گپکار اتحاد اپنے عہد سے پھر گیا
No image سرینگر(کشیر رپورٹ) گپکار ڈیکرریشن میں پانچ اگست سے پہلے کی پوزیشن کو برقرار رکھنے کی جدوجہد کی بات کی گئی تھی تاہم اب یہ اتحاد انتخابی سیاست کا حصہ بن رہا ہے اور اپنے مشترکہ عہد سے ہٹتا،کمپرومائیز کرتا نظر آ رہا ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر کی گزشتہ سال پانچ اگست یسے پہلے کی حیثیت کی بحالی کے لئے قائم بھارت نواز سیاسی جماعتوں کے گپکار اتحاد نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے بلدیاتی الیکشن میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا ہے جس سے گپکار اتحاد ماضی کی طرح ایک بار پھر کشمیریوں کے ساتھ دھوکہ دہی کا مرتکب ہو اہے۔
نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ کی سربراہی میں قائم گپکار اتحاد نے مقصد کے حصول تک کسی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا دعوی کیا تھا اور عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ'' اگر اب بھی ہم نے اقتدار کی سیاست کی تو لعنت ہے ہم پر''۔ اس کے باوجود گپکار اتحاد یہ کہتے ہوئے بلدیاتی الیکشن میں شامل ہو رہا ہے کہ بلدیاتی الیکشن میں ' بی جے پی' کے لئے میدان خالی نہیں چھوڑا جائے گا۔ یہی نعرہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے گزشتہ اسمبلی الیکشن میں محبوبہ مفتی کی ' پی ڈی پی' نے لگایا تھا کہ ' بی جے پی' کے عزائم کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کی پارٹی کو ووٹ دیئے جائیں اور الیکشن کے بعد محبوبہ مفتی نے' بی جے پی' کے ساتھ ہی اقتدار کے لئے اتحاد قائم کر لیا اور ان کی ہم نوا بن گئیں۔تاہم کچھ ہی عرصے بعد ' بی جے پی' نے محبوبہ مفتی کی حکومت کو تمام تر دفاواری دکھانے کے باوجود برخاست کر دیا تھا۔
اب مقبوضہ جموں وکشمیر میں 24 نومبر سے آٹھ مراحل میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں ہندونواز' بی جے پی' اور بھارت نواز ' گپکار اتحاد' کا مقابلہ ہوگا۔ہندوستانی مقبوضہ جموں وکشمیر میں آٹھ مراحل میںڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کونسل اور اربن لوکل باڈیز کے الیکشن کی تیاری جاری ہے اور بی جے پی کے علاوہ گپکار اتحاد نے بھی اپنے امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔مبصرین کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ مقبوضہ جموںو کشمیر کے بھارت نواز سیاستدان بالخصوص شیخ خاندان اور مفتی خاندان نے'' یو ٹرن'' لیا ہے بلکہ ان خاندانوں کی تاریخ کشمیریوں سے از خود کئے گئے عہداور غداری سے بھری ہوئی ہے۔یوں گپکار اعلان کی ہانڈی بیچ چوراہے پھوٹ چکی ہے۔
واپس کریں