سرینگر کے گائوکدل علاقے میں ہندوستانی فوج کے ہاتھوں 50سے زائد مظاہرین کے قتل کا یادگاری دن
No image سرینگر(کشیر رپورٹ)ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں سرینگر کے علاقے گائوکدل میں ہندوستانی فوجیوں کے قتل عام کا سوگواری دن منایا گیا۔ گا ئوکدل قتل عام کو 31برس پورے ہونے کے موقع پر آج ہڑتال کی گئی ۔
ہندوستانی فوجیوںنے 1990میں آج ہی کے دن سرینگر کے علاقے گائوکدل میںپر امن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کر کے 50سے زائد افراد کو شہید کر دیاتھاجو اس سے ایک دن پہلے ہندوستانی فوجیوںکی طرف سے متعدد خواتین کی آبروریزی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔
سرینگر میں گا ئوکدل، بسنت باغ ، لال چوک ، ریزیڈنسی روڈ ، آبی گزر ، مولانا آزاد روڈ،کانی کدل ، چھوٹا بازار ، عید گاہ ، درگاہ ، رینہ وای ، خانیار ، نوہٹہ ، مہاراج گنج ، صفہ کدل ، مائسمہ ، کرال کھڈ اور شہر کے دیگر علاقوں میں تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بندرہے ۔قابض انتظامیہ نے لوگوں کو بیگناہ شہریوں کے قتل عام کے خلاف احتجاجی مظاہروں سے روکنے کیلئے بڑی تعداد میں فوجیوں اور پولیس اہلکاروںکو تعینات کررکھا تھا۔ گاڑیوں اور لوگوں کو نقل وحرکت سے روکنے کیلئے تمام داخلی مقامات پر رکاوٹیںکھڑی کی گئی تھیں۔ تاہم اسکے باوجودبڑی تعداد میں لوگ فاتحہ خوانی کیلئے مزار شہداسرینگر گئے ۔
۲۱ جنوری ۱۹۹۰ کشمیر کے لئے جلیانوالہ باغ قتل عام کا دوسرا منظر تھا وہ دن کشمیریوں کے لئیے ایک قیامت کا دن تھا۔ ‎گاﺅکدل قتل عام کو ۳۱ سال گزر گئے ہیں لیکن اس واقعہ کے زخم ابھی بھی تازہ ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے یہ واقعہ کل پیش آیاہے۔19 جنوری کی رات جب جگموہن ملہوترہ نے گورنر ی کا چارج سنبھالا، سرینگر کے وسط میں گاوٗکدل علاقہ پر ایک قیامت ٹوٹ پڑی۔ مقامی آبادی میں عسکریت پسندوں کے خلاف جعلی آپریشن کے نام پر 50 افراد کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔ اس روز ‎وادی میں سخت سردی تھی لوگوں کے مزاج میں تلخی اور ناراضگی کی گرمی بڑہی ہوئ تھی اس روز موسم صاف تھا مگر کرفیو کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں سہمے ہوئے تھے اس دوران شہر کے پادشاہی باغ سے لوگوں نے ایک جلوس نکالا یہ جلوس جواہر نگر اور راجباغ سے ہوتے ہوئے گاﺅ کدل پہنچ گیا ۔دن کے دو بجے اس پرُامن جلو س پر سی آر پی ایف نے فائیرینگ کر کے گاﺅکدل کو مقتل میں تبدیل کی۔ان دنوں میں اخباری اطلاعات کے مطابق جنوری کے مہینے میں وادی کے طول و عرض میں 300 کے قریب افراد ہلاک کر دیے گئے تھے۔
واپس کریں