صحافی کی خبر کی اشاعت پر پولیس سٹیشن طلبی اور تشدد، صحافتی تنظیموں کا احتجاج، کشمیر میں صحافیوں پر سرکاری تشدد معمول
No image سرینگر۔ ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں ایک صحافی کو پولیس سٹیشن طلب کر کے اس پر جسمانی تشدد کرنے کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کشمیر پریس کلب اور کشمیر ایڈیٹرز گلڈ نے کہا ہے کہ انڈین فوج،پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ہاتھوں کشمیری صحافیوں کے خلاف تشدد سمیت ہر قسم کی ظالمانہ کاروائیاں معمول بن چکی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نوجوان صحافی عاقب جاوید کو اس کی ایک خبر کی اشاعت پر پولیس سٹیشن طلب کیا گیا اور وہاں اس کے خلاف ظالمانہ سلوک کرتے ہوئے اس پر تشدد بھی کیا گیا۔کشمیر پریس کلب اور کشمیر ایڈیٹرز گلڈ نے کہا ہے کہ صحافی کو اس کی خبر پرپولیس سٹیشن طلب کرنا،تشدد کرنا،گالیاں دینا کسی بھی معاشرے میں قبول نہیں کیا جاسکتا اور وہ آزادی صحافت کے منافی ہے۔کشمیر پریس کلب نے کہا ، "ہم جموں و کشمیر کے ایل جی سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ وادی کشمیر میں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران صحافیوں کو درپیش مشکلات کے ان امور کو دیکھیں۔"کشمیر پریس کلب نے کہا کہ خبروں کی اشاعت پر صحافیوں کو پولیس ،فورسز کی طرف سے طلب کرنا اور ظالمانہ کشمیر میں ایک معمول بنا دیا گیا ہے،کلب اس عمل کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ ایک طریقہ کار تیار کرے تاکہ صحافیوں کو بلا خوف و ہراس کے فرائض کی انجام دہی کے لئے ایک سازگار ماحول میسر آسکے۔کشمیر ایڈیٹرز گلڈ نے بھی صحافی کے ساتھ بدسلوکی کرنے پر پولیس کی مذمت کی۔

واپس کریں