نواز شریف کو پاک بھارت تعلقات بحال کرانے کی ذمہ داری سونپی جائے
سید مجاہد علی
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے پاک بھارت تعلقات میں غلط فہمیاں دور کرنے اور بات چیت کے ذریعے باہمی مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ لندن میں روزنامہ ڈان کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے نہایت صراحت سے اس معاملہ کی نزاکت اور اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک دوسرے کے ہمسائے ہیں۔ ہمیں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہے۔ ہمیں آپس میں دوستانہ تعلقات کی ضرورت ہے‘۔
روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق میاں نواز شریف کی گفتگو محتاط اور نپی تلی تھی۔ انہوں نے کوئی اشتعال انگیز یا اختلافی بات کہنے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں ایسا کچھ نہیں کہنا چاہتا جو مشکلات یا عدم استحکام کا باعث بنے۔ یہ آخری چیز ہے جو میں ملک کے لیے کرنا چاہتا ہوں‘ ۔ اس احتیاط کے باوجود ان کی باتیں مدبرانہ اور مشکلات میں گھرے پاکستان کے بارے میں راحت کے راستے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان کا یہ اصرار توجہ طلب ہے کہ پاکستان اور بھارت ہمسایہ ممالک ہیں۔ اور ہمیشہ یہ جغرافیہ موجود رہے گا۔ اس لیے فاصلوں کی بجائے، دوریاں کم کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں سرد مہری ختم کرنا دونوں ملکوں کے لیے ضروری ہے لیکن پاکستان کے لیے اس کی اہمیت دوچند ہے۔ پاکستان اس وقت معاشی مشکلات کے علاوہ، سفارتی تنہائی اور دہشت گردی کا شکار ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے ایک طرف خیبر پختون خوا میں تحریک طالبان پاکستان سرگرم عمل ہے جسے اب پاک فوج نے باقاعدہ ’فتنہ خوارج‘ کا نام دے کر اس گروہ کے ساتھ مواصلت یا مصالحت کے سب دروازے بند کیے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ایسے دہشت گرد اور پرتشدد انتہاپسند گروہ کو ختم کرنے اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے کیا انتظامات کیے جا سکتے ہیں۔ افغانستان میں حکمران طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان اور گہری عملی اور نظریاتی وابستگی ہے۔ طالبان حکومت اگرچہ یہ دعویٰ کرتی رہتی ہے کہ وہ بیرون ملک دہشت گردی میں ملوث نہیں ہے لیکن پاک فوج اور حکومت پاکستان بار بار اصرار کرچکے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں۔ ان ٹھکانوں کو افغان حکومت کی مدد و سرپرستی کے بغیر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے اسلام آباد مسلسل کابل پر دباؤ ڈالتا ہے کہ یہ مسئلہ حل کیا جائے اور شدت پسند گروہوں کو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔
بظاہر اسلام آباد کی یہ خواہش پوری ہونے کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔ کابل کی طالبان حکومت پاکستان میں دہشت گردی اور عدم استحکام کے ہتھکنڈوں میں ملوث اپنے ہم نام گروہ کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ پاکستان نے مجبوری میں پاک افغان سرحد پر کنٹرول سخت کیا ہے لیکن ایک ہی زبان بولنے والے قبائل سرحد کے دونوں طرف آباد ہیں۔ ان کے باہم روابط اور میل جول کو بند کرنا کسی بھی حکومت کے لیے ممکن نہیں ہے۔ ان حالات میں افغانستان کے ساتھ حکومتی سطح پر اختلافات اور دوریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ گو کہ پاکستانی حکام بار بار افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کی خواہش ظاہر کرچکے ہیں لیکن کابل حکومت پاکستان سے تو سرحدی تجارت، آمد و رفت اور افغان پناہ گزینوں کے حوالے سے مراعات چاہتی ہے لیکن اس کے عوض ٹی ٹی پی کا مکمل قلع قمع کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔
اس دوران خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہے جو بوجوہ مرکزی حکومت کے ساتھ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر برسر پیکار ہے۔ حکومت کے خلاف سیاسی احتجاج میں وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور پیش پیش ہوتے ہیں اور سرکاری وسائل اور اداروں کو سیاسی مظاہرے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ صوبائی و مرکزی حکومت میں اس چپقلش کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ ایک تو باہمی تصادم کی صورت حال میں کوئی بھی اتھارٹی ان کی جائز ضرورتیں پیدا کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ دوسری طرف قوم پرست گروہوں کے خلاف حکومت و عسکری قیادت کی سخت گیر پالیسی کی وجہ سے پریشانیوں و فاصلوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس ماحول میں تحریک طالبان پاکستان کے سرگرم عناصر اپنے پاؤں جمانے اور عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں، جنہیں یہی اندازہ نہیں ہو پاتا کہ کون ان کا دوست ہے اور کون دشمن۔ اسی بے یقینی کی وجہ سے تشدد کے رجحان کو زمینی سطح پر معاونت حاصل ہو رہی ہے۔ اس طرح ایک طرف خیبر پختون خوا کے قبائلی علاقوں میں امن و امان ایک مسلسل مسئلہ بنا ہوا ہے تو دوسری طرف یہ صورت حال پاکستان و افغانستان کے درمیان اختلاف و تنازعہ کا سبب بنی ہوئی ہے۔
ایران کی سرحد کے ساتھ اگرچہ صورت حال اس قدر خراب نہیں ہے اور اسلام آباد و تہران ایک دوسرے کو سمجھنے اور کسی حد تک رعایت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ صورت حال اس وقت مشرق وسطیٰ کی صورت حال اور اسرائیل و امریکہ کے ساتھ ایران کے تصادم کی وجہ سے نسبتاً پاکستان کے حق میں ہموار ہے۔ کیوں کہ ایران ایسے موقع پر پاکستان کے ساتھ براہ راست تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ البتہ پاک ایران کی سرحد کے دونوں طرف سرگرم جنگجو گروہوں کی موجودگی، دونوں ملکوں کو تصادم کی طرف دھکیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
لیکن پاکستان کو سب سے بڑا مسئلہ اس وقت مشرقی بارڈر پر بھارت کے ساتھ درپیش ہے۔ بھارت مسلسل پاکستان پر مقبوضہ کشمیر میں جنگ جو عناصر کی حمایت کرنے کا الزام لگاتا رہتا ہے۔ ایسے الزامات کے لیے ماضی میں پاکستان کی حکمت عملی بھی عذر کے طور پیش کی جاتی ہے لیکن اس کی اہم ترین وجہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو توا پالیسی ہے جس کے تحت مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف ہیجان خیز ماحول پیدا کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ گو کہ پاکستان نے اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کے اقدامات کے سبب دو طرفہ بات چیت سے گریز کی پالیسی اختیار کی ہے۔ تاہم بھارت میں نریندر مودی کی حکومت اس سے بھی پہلے پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کرنے کا الزام لگا کر کسی بھی قسم کی بات چیت سے انکار کرتی رہی ہے۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان سرد مہری کی صورت حال پیدا کرنے میں اسلام آباد اور نئی دہلی نے یکساں طور سے منفی کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان تسلسل سے یہ الزام بھی لگاتا ہے کہ بھارتی ایجنسیاں بلوچستان میں قوم پرست گروہوں کی مالی، عسکری و سفارتی مدد کر رہی ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی جیسے گروہ بلوچستان میں تسلسل سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ملوث ہیں۔ کل رات بھی قلات میں ایک فوجی چوکی پر حملہ میں 8 سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہو گئے اور اس کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس گروہ کو مسلح کرنے، تربیت دینے سے لے کر ٹارگٹ تلاش کرنے میں مدد دینے تک بھارتی ایجنسیاں ملوث ہیں۔ پاکستان اس حوالے اقوام متحدہ، دیگر عالمی اداروں اور دوست ممالک کو دستاویزی شواہد بھی پیش کرچکا ہے۔ لیکن ایسے دو طرفہ معاملات میں عام طور سے عالمی ادارے یا ممالک ملوث ہونے سے گریز کرتے ہیں۔
یوں دیکھا جائے تو پاکستان ایک طرف دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں۔ یعنی وہ کسی ملک کے ساتھ مل کر اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزم بنانے کے قابل نہیں ہے۔ ان حالات میں پاکستانی حکومت خاصی مجبور ہے اور چند عالمی فورمز پر الزام تراشی کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ اس کے جواب میں دوسرا فریق اپنے نقطہ نظر سے جوابی الزام تراشی کرتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک تو کشمیر کا دیرینہ تنازعہ ہے اور پھر یہ دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ متعدد بار مسلح تصادم میں ملوث رہ چکے ہیں، اس لیے موجودہ حالات میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور کسی طرح کا دوستانہ تعلق استوار کرنا پاکستان کے لیے انتہائی ضروری اور مفید ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاک بھارت تعلقات معمول پر آنے سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمی میں کئی گنا اضافہ بھی ممکن ہے جو ملک کو موجودہ مالی بحران سے باہر نکالنے میں معاون ہو سکتا ہے۔
بدقسمتی سے دونوں ملکوں میں ایسے لیڈروں کی کمی ہے جو اس حوالے سے پل کا کردار ادا کرسکیں اور کسی بھی طرح اسلام آباد اور نئی دہلی کو ایک دوسرے کے قریب لا سکیں۔ البتہ نواز شریف اپنے وسیع سیاسی و سفارتی تجربے، مدبرانہ طرز عمل اور پاکستان کے علاوہ بھارت میں اثر و رسوخ کے باعث اس غیرمعمولی پوزیشن میں ہیں کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت کا راستہ تلاش کرنے میں کردار ادا کرسکیں۔ 1999 اور 2015 میں وہ بطور وزیر اعظم اپنی اس شاندار صلاحیت کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ 20 فروری 1999 کو بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نواز شریف کی دعوت پر بذریعہ دوستی بس لاہور پہنچے تھے۔ اور معاہد لاہور پر دستخط کیے۔ اس میں دونوں ممالک علاقائی امن کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ روکنے پر متفق ہوئے تھے۔ اسی طرح دسمبر 2015 میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی روس و افغانستان کے دورے کے بعد اچانک لاہور پہنچے اور نواز شریف سے لاہور میں ملاقات کی۔ تاہم یہ دونوں مواقع بالترتیب کارگل تنازعہ اور پٹھان کوٹ دہشت گرد حملہ کی وجہ سے ضائع ہو گئے اور دونوں ملکوں کے درمیان سرد مہری اور دوری کے ایسے دور کا آغاز ہوا جو اب تک جاری ہے۔
نواز شریف کے اس پس منظر کے علاوہ انہوں نے حالیہ مہینوں میں دوطرفہ مفاہمت و مواصلت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ لندن میں روزنامہ ڈان سے انٹرویو میں بھی ان کا کہنا تھا کہ ’جب مسائل کی بات آتی ہے تو ہمیں دوستانہ ماحول میں بیٹھ کر ایک دوسرے سے بات کرنی چاہیے۔ اگر کسی ملک سے آپ کے تعلقات بہتر ہوں تو اس کے ساتھ مسائل پر بات کرنا آسان ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ ایک دوسرے سے دور رہیں تو مسائل پر بات چیت نہیں کر سکتے‘ ۔ نواز شریف کا موقف پاکستان کو متعدد مسائل سے نجات دلا سکتا ہے۔ پاک بھارت تعلقات میں خوشگوار تبدیلی خطے میں امن اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا نقطہ آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔
حکومت پاکستان کو نواز شریف کی باتوں پر غور کرنا چاہیے اور انہیں سرکاری طور پر دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر کرنے کا کام سونپنا چاہیے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے حکومت اور عسکری قیادت بھارت کو دشمن سمجھنے کی بجائے، اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے پر متفق ہو۔ نواز شریف کی صورت میں پاکستان کے پاس ایک ایسا لیڈر موجود ہے جس پر اسلام آباد اور نئی دہلی یکساں طور سے اعتبار کر سکتے ہیں اور ان کی تجاویز کو غور سے سنا جائے گا۔ بہتر ہو گا کہ نواز شریف کو پاک بھارت تعلقات میں سفارت کاری کی ذمہ داری سونپ کر خطے میں دشمنی ختم کرنے کے کام کا آغاز کیا جائے۔
(بشکریہ کاروان ناروے)
واپس کریں