مقبوضہ جموں وکشمیر میں نئی حد بندی کا عمل شروع، حدبندی کمیشن کا مقبوضہ کشمیر کا چار روزہ دورہ
No image سرینگر( کشیر رپورٹ) ہندوستانی مقبوضہ جموں وکشمیر میں انتخابی حلقوں کی نئی حدود بندی کے لئے قائم کر دہ حدبندی کمیشن منگل سے مقبوضہ جموں وکشمیر کا چار روزہ دورہ شروع کر رہا ہے۔ نئی حد بندی کا مقصد مقبوضہ جموں اور مقبوضہ کشمیر میں اسمبلی نشستوں کی تعداد کا فرق کم کرنا ہے تا کہ مودی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر اسمبلی میں ' بی جے پی' کا وزیر اعلی بنا سکے۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس ریٹائرڈرنجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں حد بندی کمیشن منگل کو چار روزہ دورے پر سرینگر پہنچے گا جہاں بھارت نواز سیاسی رہنمائوں کے ساتھ ملاقات کی جائے گی ، جن میں نئے حلقوں کی تشکیل کے لئے پہلے ہاتھ سے معلومات جمع کی جائیں گی۔ گپکار اتحاد نے مشترکہ اجلاس کے بعد کہا کہ کمیشن کی کارروائی میں حصہ لینے کے بارے میں کوئی مشترکہ فیصلہ نہیں لیا گیا ہے اور یہ فیصلہ انفرادی جماعتوں پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ آیا وہ حصہ لینا چاہتے ہیں۔نیشنل کانفرنس نے کمیشن سے ملاقات کے لئے اپنا وفد قائم کیا ہے جبکہ ' پی ڈی پی' نے کمیشن کو تحریر ارسال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔قبل ازیں حدبندی کمیشن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اپنے دورے کے دوران 20 اضلاع کے ضلعی انتخابی افسروں / ڈپٹی کمشنروں سے جاری معلومات سے متعلق معلومات اور معلومات جمع کریں گے۔ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ ، 2019 کے تحت لازمی حد بندی کا عمل کیا جا رہا ہے۔نئی حد بندی مشق مکمل ہونے کے بعد جموں و کشمیر میں اسمبلی نشستوں کی تعداد 83 سے بڑھ کر 90 ہو جائیں گی۔
واپس کریں